لٹا کے راہِ محبت میں ہر خوشی میں نے
لیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نے
نجانے کیوں تیری چشمِ کرم کو سہہ نہ سکا
تیرے ستم تو سہے تھے ہنسی خوشی میں نے
تیرے حسین تصور کو سامنے لا کر
شبِ فراق کو بخشی ہے چاندنی میں نے
وہیں پہ آ گئے آنکھوں میں دفعتاً آنسو
جہاں بھی دیکھ لی ہنستی ہوئی کلی میں نے
نہ کھا سکیں گی نگاہیں میری فریبِ سکوں
کہ دھڑکنوں ہی میں پائی ہے زندگی میں نے
صبا افغانی
No comments:
Post a Comment