Showing posts with label رضوان عالم. Show all posts
Showing posts with label رضوان عالم. Show all posts

Sunday, 16 July 2023

اللہ اللہ مصطفٰی ہیں مالک و مختار سوچ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اللہ اللہ مصطفٰیﷺ ہیں مالک و مختار سوچ

پھر بھی پتھر ہیں شکم پر رفعتِ کردار سوچ

بھیج کر احساں جتایا ربِ اکبر نے جِسے

اے مسلماں! اپنے اوپر نعمتِ غفار سوچ

لیلتہ الاسریٰ میں پہنچے قاب قوسين و دنا تک

پَل میں جانا، پَل میں آنا سُرعتِ رفتار سوچ

Monday, 21 March 2022

گنوا دیا ہے جسے تو نے سوچنے کے لیے

 گنوا دیا ہے جسے تُو نے سوچنے کے لیے

وہی گھڑی تھی مِرے یار! فیصلے کے لیے

کسی نے عشق کے آغاز میں کہا تھا میاں

تجھے ملا ہے یہی سانپ پالنے کے لیے

میں دن گزار کے دفتر سے لوٹ آیا ہوں

اداس شام کے منظر کو دیکھنے کے لیے

Friday, 9 July 2021

پہلے برائے وصل دریچے بنائے تھے

 پہلے برائے وصل دریچے بنائے تھے

پھر قصہ گو نے خود وہیں پہرے لگائے تھے

کچھ تتلیوں نے پھُول کی تسکین کے لیے

اک باغباں سے اپنے مراسم بڑھائے تھے

میں داستاں کا آخری حصہ ہوں، مجھ کو پڑھ

اور یہ سمجھ کہ کس لیے، طوفان آئے تھے

Monday, 5 July 2021

شہر کا شہر مری سوچ سے بڑھ کر نکلا

 شہر کا شہر مِری سوچ سے بڑھ کر نکلا

میں نے قطرہ جسے سمجھا تھا سمندر نکلا

پاؤں چھُونے سے ہی جو نیند میں ڈر جاتا تھا

آج اس شخص کے سامان سے خنجر نکلا

پھر کئی وحشی ہواؤں نے وہ تیور بدلے

شور کرتا ہوا سینے سے قلندر نکلا

Thursday, 1 July 2021

اے میرے غم زمانے کو بتانے والی

 اک مسکراہٹ کی خاطر


اے میرے غم زمانے کو بتانے والی

لُٹا دی متاعِ زندگی تجھ پر

مگر پھر بھی تُو

میرے اور محبتوں کو

محض اک مذاق سمجھ کر

انجانے ڈگر پر چل پڑی ہے

جس کی راہ پہ خوشیوں کی خزاں کھڑی ہے

باوجود اس کے

میں تِرا رستہ دیکھتا ہوں

امید کے دھوپ سینکتا ہوں

کہ شاید کبھی

میرے عشق کے سورج کی تمازت

تیرے دل کو موم کر دے

اور میرے جذبوں کی صداقت تجھ پر عیاں ہو جائیں

اور ہم یکجاں ہو جائیں


رضوان عالم

کہیں سے روز ہی آتی ہے یہ صدا مجھ کو

 کہیں سے روز ہی آتی ہے یہ صدا مجھ کو

میں ایک سانس کی دوری پہ ہوں بُلا مجھ کو

میں اس وجود میں اس کو پسند آیا نہیں

خدائے کُن! یہ گزارش ہے، پھر بنا مجھ کو

میں زہر پی کے بھی زندہ رہوں گا صدیوں تک

پہ شرط یہ ہے کہ تُو ہاتھ سے پِلا مجھ کو

تھوڑی دیر وہ نین نرالے دیکھے تھے

 تھوڑی دیر وہ نین نرالے دیکھے تھے

پھر منظر میں صرف اُجالے دیکھے تھے

صبح ہوئی تو سارا شہر مقفّل تھا

ہم نے شب بھر خواب میں تالے دیکھے تھے

مجھ کو بلندی یوں بھی راس نہیں آئی

میں نے اس سے گِرنے والے دیکھے تھے

Wednesday, 30 June 2021

زمین بین کرے آسمان رونے لگے

 زمین بین کرے، آسمان رونے لگے

ہمارے واسطے سارا جہان رونے لگے

ہمارے لہجے نے ہر سمت قتلِ عام کِیا

ہماری باتوں پہ سب بے زبان رونے لگے

وہ رخصتی کے سمے چُپ نہ رہ سکی کہ کہیں

اُسے رُلاتے ہوئے خاندان رونے لگے