Monday, 5 July 2021

شہر کا شہر مری سوچ سے بڑھ کر نکلا

 شہر کا شہر مِری سوچ سے بڑھ کر نکلا

میں نے قطرہ جسے سمجھا تھا سمندر نکلا

پاؤں چھُونے سے ہی جو نیند میں ڈر جاتا تھا

آج اس شخص کے سامان سے خنجر نکلا

پھر کئی وحشی ہواؤں نے وہ تیور بدلے

شور کرتا ہوا سینے سے قلندر نکلا

روکنے والے نے روکا، نہ کہیں جانے دیا

میں کہ جب بھی کسی بے نام سفر پر نکلا

مجھ پہ اک بار ہی دشمن نے کماں کھینچی تھی

پھر تو میں بارہا اپنے ہی ہدف پر نکلا


رضوان عالم

No comments:

Post a Comment