تاکید
اپنے بس میں کر لیتا ہے
جادو ہے سو
چل جاتا ہے
تیری آنکھوں کا
سات سُروں سے
آگے کی باتیں کرتا ہے
میں تیری آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں
اچھی لگتی ہے
جادو جیسی لگتی ہے
نفرت کی سرکار گرائی جا سکتی ہے
درد اکٹھے کر کے
اک ڈبے میں بھر بھی سکتے ہیں
اک چٹکی میں پھول کو آگ بنا سکتا ہے
اک لمحے میں کیا کچھ کر دیتا ہے جادو
لیکن پلک جھجکتے ہی سب
ٹوٹ بھی جایا کرتا ہے
کئی دنوں سے
چُپ ہے وادی
سحر سا طاری ہے ذہنوں پر
تم بھی تو طاری ہو مجھ پر
بات ادھوری رہ نہ جائے
مجھ کو کوئی لے نہ جائے
ساری دنیا جادوگر ہے
سلیم شہزاد
No comments:
Post a Comment