Showing posts with label حیا لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label حیا لکھنوی. Show all posts

Tuesday, 2 June 2026

نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا

 نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا

نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا

مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی

نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا

وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا

کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا

Friday, 4 July 2025

وقت باقی ہے ابھی آؤ کہ الفت کر لیں

 التجا


آ بھی جاؤ کہ نئے سر سے محبت کر لیں

دل کے ویرانے کو معمورِ مسرت کر لیں

گردش چرخ کو پھر خوگرِ بہجت کر لیں

عمر ناشاد کو سرمایۂ عشرت کر لیں

وقت باقی ہے ابھی آؤ کہ الفت کر لیں

آ بھی جاؤ کہ نئے سر سے محبت کر لیں

Monday, 30 June 2025

چمن وہی ہے گھٹائیں وہی بہار وہی

 چمن وہی ہے گھٹائیں وہی بہار وہی

مگر گلوں میں وہ اب رنگ و بو نہیں باقی

ہے دلکشی میں وہی اب بھی موسموں کی بہار

نظر میں کیفیت رنگ و بو نہیں باقی

شباب دہر کی اب بھی ہے وہ فراوانی

مگر خیال میں جوش نمو نہیں باقی

Sunday, 29 June 2025

دل کا سکوں بدل گیا حالت اضطرار سے

 انتظار


دل کا سکوں بدل گیا حالتِ اضطرار سے

پرسشِ غم کرے تو کون، آ کے نحیف و زار سے

جان بہ تنگ آ گئی، اس دلِ بے قرار سے

اٹھنے لگے ہیں شعلے پھر دیدۂ اشکبار سے

دل کا سکوں بدل گیا حالتِ اضطرار سے

آنکھوں میں آ چلی ہے جاں شدتِ انتظار سے