نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا
نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا
مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی
نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا
وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا
کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا
نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا
نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا
مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی
نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا
وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا
کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا
التجا
آ بھی جاؤ کہ نئے سر سے محبت کر لیں
دل کے ویرانے کو معمورِ مسرت کر لیں
گردش چرخ کو پھر خوگرِ بہجت کر لیں
عمر ناشاد کو سرمایۂ عشرت کر لیں
وقت باقی ہے ابھی آؤ کہ الفت کر لیں
آ بھی جاؤ کہ نئے سر سے محبت کر لیں
چمن وہی ہے گھٹائیں وہی بہار وہی
مگر گلوں میں وہ اب رنگ و بو نہیں باقی
ہے دلکشی میں وہی اب بھی موسموں کی بہار
نظر میں کیفیت رنگ و بو نہیں باقی
شباب دہر کی اب بھی ہے وہ فراوانی
مگر خیال میں جوش نمو نہیں باقی
انتظار
دل کا سکوں بدل گیا حالتِ اضطرار سے
پرسشِ غم کرے تو کون، آ کے نحیف و زار سے
جان بہ تنگ آ گئی، اس دلِ بے قرار سے
اٹھنے لگے ہیں شعلے پھر دیدۂ اشکبار سے
دل کا سکوں بدل گیا حالتِ اضطرار سے
آنکھوں میں آ چلی ہے جاں شدتِ انتظار سے