Showing posts with label اسلم گورداسپوری. Show all posts
Showing posts with label اسلم گورداسپوری. Show all posts

Wednesday, 3 May 2023

کتنے زیادہ ہم ہیں پریشان دیکھنا

 کتنے زیادہ ہم ہیں پریشان دیکھنا

دل کا معاملہ ہے میری جان دیکھنا

اتنے زیادہ صاحبِ ایمان ہیں کہ اب

مشکل ہوا ہے صاحبِ ایمان دیکھنا

یہ وحشتیں ہمارا کوئی مشغلہ نہ تھیں

اب بن گیا ہے شوق یہ طوفان دیکھنا

Friday, 9 September 2022

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

 اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں 

ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں 

زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے 

عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں 

شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو 

کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں 

Wednesday, 3 August 2022

کسی بے دید کو ہم دیدہ ور اچھے نہیں لگتے

 کسی بے دید کو ہم دیدہ ور اچھے نہیں لگتے

کہ جیسے رہزنوں کو راہبر اچھے نہیں لگتے

مجھے اس کارگاہِ زیست کو پھر سے بسانا ہے

یہ آڑھے ٹیڑھے بے ترتیب گھر اچھے نہیں لگتے

بہت لازم ہے ان میں سرکشی اور سرفروشی ہو

ہر اک چوکھٹ پہ سجدہ ریز سر اچھے نہیں لگتے

Sunday, 31 July 2022

یہ ملک و قوم کی جہد و بقا کو مار دیتے ہیں

 یہ ملک و قوم کی جہد و بقاء کو مار دیتے ہیں

یہ وہ رہزن ہیں جو ہر رہنما کو مار دیتے ہیں

یہ ظالم لوگ ہیں بد صورتی سے عشق کرتے ہیں

یہ ہر خوش شکل کو ہر خوش ادا کو مار دیتے ہیں

یہ سب ہی غوغۂ زاغ و زغن کا شوق رکھتے ہیں

یہ ہر اک طائرِ نغمہ سرا کو مار دیتے ہیں

Saturday, 30 July 2022

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے

 سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن،۔ سبھی کا اب حال ایک سا ہے 

اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے 

کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم 

نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے، نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے 

مرض یہ کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے 

یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ہر ایک کا سر جھکا ہوا ہے 

اینٹ سے اینٹ بجا دو میرا دم گھٹتا ہے

 اینٹ سے اینٹ بجا دو، میرا دم گُھٹتا ہے

اب کوئی حشر اُٹھا دو، میرا دم گھٹتا ہے

ان کو معلوم ہو اِنسان کی عظمت کیا ہے

ان کو انجیل پڑھا دو، میرا دم گھٹتا ہے 

آج تک تم نے مجھے مور و ملخ ہی سمجھا

مجھ کو انسان بنا دو، میرا دم گھٹتا ہے