کتنے زیادہ ہم ہیں پریشان دیکھنا
دل کا معاملہ ہے میری جان دیکھنا
اتنے زیادہ صاحبِ ایمان ہیں کہ اب
مشکل ہوا ہے صاحبِ ایمان دیکھنا
یہ وحشتیں ہمارا کوئی مشغلہ نہ تھیں
اب بن گیا ہے شوق یہ طوفان دیکھنا
کتنے زیادہ ہم ہیں پریشان دیکھنا
دل کا معاملہ ہے میری جان دیکھنا
اتنے زیادہ صاحبِ ایمان ہیں کہ اب
مشکل ہوا ہے صاحبِ ایمان دیکھنا
یہ وحشتیں ہمارا کوئی مشغلہ نہ تھیں
اب بن گیا ہے شوق یہ طوفان دیکھنا
اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں
ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں
زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے
عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں
شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو
کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں
کسی بے دید کو ہم دیدہ ور اچھے نہیں لگتے
کہ جیسے رہزنوں کو راہبر اچھے نہیں لگتے
مجھے اس کارگاہِ زیست کو پھر سے بسانا ہے
یہ آڑھے ٹیڑھے بے ترتیب گھر اچھے نہیں لگتے
بہت لازم ہے ان میں سرکشی اور سرفروشی ہو
ہر اک چوکھٹ پہ سجدہ ریز سر اچھے نہیں لگتے
یہ ملک و قوم کی جہد و بقاء کو مار دیتے ہیں
یہ وہ رہزن ہیں جو ہر رہنما کو مار دیتے ہیں
یہ ظالم لوگ ہیں بد صورتی سے عشق کرتے ہیں
یہ ہر خوش شکل کو ہر خوش ادا کو مار دیتے ہیں
یہ سب ہی غوغۂ زاغ و زغن کا شوق رکھتے ہیں
یہ ہر اک طائرِ نغمہ سرا کو مار دیتے ہیں
سبھی یہاں ہیں دریدہ دامن،۔ سبھی کا اب حال ایک سا ہے
اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے
کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم
نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے، نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے
مرض یہ کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے
یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ہر ایک کا سر جھکا ہوا ہے
اینٹ سے اینٹ بجا دو، میرا دم گُھٹتا ہے
اب کوئی حشر اُٹھا دو، میرا دم گھٹتا ہے
ان کو معلوم ہو اِنسان کی عظمت کیا ہے
ان کو انجیل پڑھا دو، میرا دم گھٹتا ہے
آج تک تم نے مجھے مور و ملخ ہی سمجھا
مجھ کو انسان بنا دو، میرا دم گھٹتا ہے