جس جا کوئی دیپک جلتا لگتا ہے
مجھ کو تیرے گھر کا رستہ لگتا ہے
اس کی ہر اک عادت سے میں واقف ہوں
مجھ سے ملنا اس کو اچھا لگتا ہے
تُو نے جلدی کی ہے واپس آنے میں
مجھ کو تیرا ہجر ادھورا لگتا ہے
جس جا کوئی دیپک جلتا لگتا ہے
مجھ کو تیرے گھر کا رستہ لگتا ہے
اس کی ہر اک عادت سے میں واقف ہوں
مجھ سے ملنا اس کو اچھا لگتا ہے
تُو نے جلدی کی ہے واپس آنے میں
مجھ کو تیرا ہجر ادھورا لگتا ہے
تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں
ہوش میں کیسے لائے جاتے ہیں
چاند گرہن سے پہلے پہلے کیوں
سب ستارے چھپائے جاتے ہیں
مطمئن خود کو کرنا پڑتا ہے
قہقہے پھر لگائے جاتے ہیں
دل میں جو ہے گِلہ ابھی کر دے
بات کھل کے ہنسی خوشی کر دے
میری آنکھوں سے یوں ملا آنکھیں
ان اندھیروں میں روشنی کر دے
خود سے آگے نکل رہا ہوں میں
کام مشکل ہے بہتری کر دے
جیسے حالات میں تو تھا، انہی حالات میں ہوں
میں مکافات کے قابل تھا، مکافات میں ہوں
شاخسانہ مِرے اعمال کا دیکھو لوگو
نام شاہد ہے مگر پھر بھی حجابات میں ہوں
اب میں ہنگامۂ دنیا سے الگ رہتا ہوں
شہر میں ڈھونڈنے والو میں مضافات میں ہوں
رک گئے آ کے تیری گلیوں تک
تتلیوں کا سفر ہے پھولوں تک
میری نظروں نے پہلی ہجرت کی
تیری آنکھوں سے تیرے ہونٹوں تک
وہ کبھی بھی نہیں پہنچ پائے
نیند سے آگے میرے خوابوں تک
کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں
تو سمجھو بند راہیں کھولنی ہیں
شجر کاری ضروری ہو گئی ہے
ہمیں جنگل کی آنکھیں کھولنی ہیں
مجھے لگتا ہے دم گھٹتا ہے ان کا
غباروں کی ہوائیں کھولنی ہیں
یہ جو اک شور سا میسر ہے
دل دھڑکتا ہوا میسر ہے
سانس لینے سے ڈر رہا ہوں میں
ایسی آب و ہوا میسر ہے
اپنے کرتب دکھا رہے ہیں سب
جس کو جتنی عطا میسر ہے
مصلحت سے جو کام لیتا ہوں
گرتے لوگوں کو تھام لیتا ہوں
دیکھتا ہوں نہیں بھی دیکھتا میں
آنکھ سے دل کا کام لیتا ہوں
ما سوائے تمہاری باتوں کے
ہر کسی کو میں عام لیتا ہوں