Showing posts with label شاہد اقبال. Show all posts
Showing posts with label شاہد اقبال. Show all posts

Saturday, 6 November 2021

جس جا کوئی دیپک جلتا لگتا ہے

جس جا کوئی دیپک جلتا لگتا ہے

مجھ کو تیرے گھر کا رستہ لگتا ہے

اس کی ہر اک عادت سے میں واقف ہوں

مجھ سے ملنا اس کو اچھا لگتا ہے

تُو نے جلدی کی ہے واپس آنے میں

مجھ کو تیرا ہجر ادھورا لگتا ہے

Tuesday, 14 September 2021

تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں

تجھ سے جو پی کے چائے جاتے ہیں

ہوش میں کیسے لائے جاتے ہیں

چاند گرہن سے پہلے پہلے کیوں

سب ستارے چھپائے جاتے ہیں

مطمئن خود کو کرنا پڑتا ہے

قہقہے پھر لگائے جاتے ہیں

Sunday, 12 September 2021

دل میں جو ہے گلہ ابھی کر دے

 دل میں جو ہے گِلہ ابھی کر دے

بات کھل کے ہنسی خوشی کر دے

میری آنکھوں سے یوں ملا آنکھیں

ان اندھیروں میں روشنی کر دے

خود سے آگے نکل رہا ہوں میں

کام مشکل ہے بہتری کر دے

Saturday, 11 September 2021

جیسے حالات میں تو تھا انہی حالات میں ہوں

 جیسے حالات میں تو تھا، انہی حالات میں ہوں

میں مکافات کے قابل تھا، مکافات میں ہوں

شاخسانہ مِرے اعمال کا دیکھو لوگو

نام شاہد ہے مگر پھر بھی حجابات میں ہوں

اب میں ہنگامۂ دنیا سے الگ رہتا ہوں

شہر میں ڈھونڈنے والو میں مضافات میں ہوں

Friday, 10 September 2021

رک گئے آ کے تیری گلیوں تک

 رک گئے آ کے تیری گلیوں تک

تتلیوں کا سفر ہے پھولوں تک

میری نظروں نے پہلی ہجرت کی

تیری آنکھوں سے تیرے ہونٹوں تک

وہ کبھی بھی نہیں پہنچ پائے

نیند سے آگے میرے خوابوں تک

Thursday, 9 September 2021

کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں

 کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں

تو سمجھو بند راہیں کھولنی ہیں

شجر کاری ضروری ہو گئی ہے

ہمیں جنگل کی آنکھیں کھولنی ہیں

مجھے لگتا ہے دم گھٹتا ہے ان کا

غباروں کی ہوائیں کھولنی ہیں

Wednesday, 8 September 2021

یہ جو اک شور سا میسر ہے

 یہ جو اک شور سا میسر ہے

دل دھڑکتا ہوا میسر ہے

سانس لینے سے ڈر رہا ہوں میں

ایسی آب و ہوا میسر ہے

اپنے کرتب دکھا رہے ہیں سب

جس کو جتنی عطا میسر ہے

مصلحت سے جو کام لیتا ہوں

 مصلحت سے جو کام لیتا ہوں

گرتے لوگوں کو تھام لیتا ہوں

دیکھتا ہوں نہیں بھی دیکھتا میں

آنکھ سے دل کا کام لیتا ہوں

ما سوائے تمہاری باتوں کے

ہر کسی کو میں عام لیتا ہوں