مصلحت سے جو کام لیتا ہوں
گرتے لوگوں کو تھام لیتا ہوں
دیکھتا ہوں نہیں بھی دیکھتا میں
آنکھ سے دل کا کام لیتا ہوں
ما سوائے تمہاری باتوں کے
ہر کسی کو میں عام لیتا ہوں
سانس لینا ضروری ہے ورنہ
میں کہاں تیرا نام لیتا ہوں
خاندانی مزاج ہے میرا
میں محبت سے کام لیتا ہوں
شاہد اقبال
No comments:
Post a Comment