Wednesday, 8 September 2021

مصلحت سے جو کام لیتا ہوں

 مصلحت سے جو کام لیتا ہوں

گرتے لوگوں کو تھام لیتا ہوں

دیکھتا ہوں نہیں بھی دیکھتا میں

آنکھ سے دل کا کام لیتا ہوں

ما سوائے تمہاری باتوں کے

ہر کسی کو میں عام لیتا ہوں

سانس لینا ضروری ہے ورنہ

میں کہاں تیرا نام لیتا ہوں

خاندانی مزاج ہے میرا

میں محبت سے کام لیتا ہوں


شاہد اقبال

No comments:

Post a Comment