مِرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا
مِرے خیال پہ ٹھہری ہے رات سپنوں کی
میں چاندنی میں نہایا ہوں زرد موسم کی
مِرے لباس سے اٹھتی ہے باس اپنوں کی
میں تلخیوں کے بدن کو جلا کے پیتا رہا
مِرے مزاج میں شامل ہے راکھ کتنوں کی
مِرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا
مِرے خیال پہ ٹھہری ہے رات سپنوں کی
میں چاندنی میں نہایا ہوں زرد موسم کی
مِرے لباس سے اٹھتی ہے باس اپنوں کی
میں تلخیوں کے بدن کو جلا کے پیتا رہا
مِرے مزاج میں شامل ہے راکھ کتنوں کی
مِرے ہجر کا تُو علاج کر، کوئی حل بتا مِرے سائیاں
مِرے درد کو مِرے کرب کو تُو پرے ہٹا مِرے سائیاں
مجھے دیکھ جا مِرے چارہ گر میں تِری نظر کا شکار ہوں
کہاں کیوں ہوا کہاں کیا ہوا نہ مجھے سنا مِرے سائیاں
زرا ہاتھ رکھ کے تُو ہاتھ پر مِری دھڑکنوں کو قرار دے
مجھے ریزہ ریزہ سمیٹ کر تُو گلے لگا مِرے سائیاں
عمر رفتہ میں ترے ہاتھ بھی کیا آیا ہوں
دن بتانے تھے مگر خود کو بتا آیا ہوں
دھول بھی ایسے قرینے سے اڑائی ہے کہ میں
ایک مرتے ہوئے رستے کو بچا آیا ہوں
کل کو دے آؤں گا جا کر اسے بینائی بھی
آنکھ دیوار پہ فی الحال بنا آیا ہوں
جدا آئینہ خانہ ہے کہ پرتو مختلف ہے
یہاں جو عکس ہیں ان سے مِری لو مختلف ہے
تری دنیائے دیرینہ بھی ہو گی منفرد سی
مِرا تشکیل کردہ عالمِ نو مختلف ہے
نئے پہلو سے کرتا ہوں نظارہ شش جہت کا
برائے فکرو فن میری تگ و دو مختلف ہے
لٹیرا ہے مگر وہ راہبر ہے
ہمارے مال پر اس کی نظر ہے
مِرا حق وہم کے زمرے میں آیا
تِرا شک بھی حدیثِ معتبر ہے
وہ جو کہتا تھا، وہ کرتا نہیں تھا
جو اس کے دل میں ہے کس کو خبر ہے
جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے
دن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے
یاروں سے ہم وقت بلا میں آنکھیں پھیر تو لیتے ہیں
لیکن اک انجانا سا دکھ دل میں پلتا رہتا ہے
نظریں خیرہ کر دیتی ہے ایک جھلک لیلاؤں کی
اور پھر انساں پورا جیون آنکھیں ملتا رہتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کرم کیجے ذرا سا یا محمدﷺ
کوئی دیجے دِلاسا یا محمدﷺ
میں خالی ہاتھ ہوں، در پر کھڑا ہوں
کوئی زنبیل، کاسہ یا محمدﷺ
مجھے رستہ دکھائیں راستی کا
نہیں ہوں میں شناسا یا محمدﷺ