Showing posts with label آفتاب احمد. Show all posts
Showing posts with label آفتاب احمد. Show all posts

Monday, 3 July 2023

مرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا

 مِرے وجود نے اوڑھا ہے ہجر رشتوں کا

مِرے خیال پہ ٹھہری ہے رات سپنوں کی

میں چاندنی میں نہایا ہوں زرد موسم کی

مِرے لباس سے اٹھتی ہے باس اپنوں کی

میں تلخیوں کے بدن کو جلا کے پیتا رہا

مِرے مزاج میں شامل ہے راکھ کتنوں کی

Thursday, 9 June 2022

مرے ہجر کا تو علاج کر کوئی حل بتا مرے سائیاں

 مِرے ہجر کا تُو علاج کر، کوئی حل بتا مِرے سائیاں

مِرے درد کو مِرے کرب کو تُو پرے ہٹا مِرے سائیاں

مجھے دیکھ جا مِرے چارہ گر میں تِری نظر کا شکار ہوں

کہاں کیوں ہوا کہاں کیا ہوا نہ مجھے سنا مِرے سائیاں

زرا ہاتھ رکھ کے تُو ہاتھ پر مِری دھڑکنوں کو قرار دے

مجھے ریزہ ریزہ سمیٹ کر تُو گلے لگا مِرے سائیاں

Tuesday, 3 May 2022

عمر رفتہ میں ترے ہاتھ بھی کیا آیا ہوں

 عمر رفتہ میں ترے ہاتھ بھی کیا آیا ہوں

دن بتانے تھے مگر خود کو بتا آیا ہوں

دھول بھی ایسے قرینے سے اڑائی ہے کہ میں

ایک مرتے ہوئے رستے کو بچا آیا ہوں

کل کو دے آؤں گا جا کر اسے بینائی بھی

آنکھ دیوار پہ فی الحال بنا آیا ہوں

Sunday, 17 April 2022

جدا آئینہ خانہ ہے کہ پرتو مختلف ہے

 جدا آئینہ خانہ ہے کہ پرتو مختلف ہے

یہاں جو عکس ہیں ان سے مِری لو مختلف ہے

تری دنیائے دیرینہ بھی ہو گی منفرد سی

مِرا تشکیل کردہ عالمِ نو مختلف ہے

نئے پہلو سے کرتا ہوں نظارہ شش جہت کا

برائے فکرو فن میری تگ و دو مختلف ہے

Saturday, 29 January 2022

لٹیرا ہے مگر وہ راہبر ہے

 لٹیرا ہے مگر وہ راہبر ہے

ہمارے مال پر اس کی نظر ہے

مِرا حق وہم کے زمرے میں آیا

تِرا شک بھی حدیثِ معتبر ہے

وہ جو کہتا تھا، وہ کرتا نہیں تھا

جو اس کے دل میں ہے کس کو خبر ہے

Saturday, 15 January 2022

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

 جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

دن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے

یاروں سے ہم وقت بلا میں آنکھیں پھیر تو لیتے ہیں

لیکن اک انجانا سا دکھ دل میں پلتا رہتا ہے

نظریں خیرہ کر دیتی ہے ایک جھلک لیلاؤں کی

اور پھر انساں پورا جیون آنکھیں ملتا رہتا ہے

Friday, 24 December 2021

کرم کیجے ذرا سا یا محمد

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کرم کیجے ذرا سا یا محمدﷺ

کوئی دیجے دِلاسا یا محمدﷺ

میں خالی ہاتھ ہوں، در پر کھڑا ہوں

کوئی زنبیل، کاسہ یا محمدﷺ

مجھے رستہ دکھائیں راستی کا

نہیں ہوں میں شناسا یا محمدﷺ