Saturday, 15 January 2022

جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

 جیون کا یہ کھیل تماشا یوں ہی چلتا رہتا ہے

دن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے

یاروں سے ہم وقت بلا میں آنکھیں پھیر تو لیتے ہیں

لیکن اک انجانا سا دکھ دل میں پلتا رہتا ہے

نظریں خیرہ کر دیتی ہے ایک جھلک لیلاؤں کی

اور پھر انساں پورا جیون آنکھیں ملتا رہتا ہے

مفت کا روگ نہ پالو دل میں جی کو مت ہلکان کرو

دنیا کا ہر چڑھتا سورج آخر ڈھلتا رہتا ہے

ہجر کی آندھی ایسی آئی سب کچھ لے کر ساتھ گئی

پھر بھی دل میں آس کا دیپک بجھتا جلتا رہتا ہے

لوگ چھپائے پھرتے ہیں پتھر کی سلوں کو سینوں میں

ایک ہمارا دل بے چارہ آگ اگلتا رہتا ہے


آفتاب احمد شاہ

No comments:

Post a Comment