Showing posts with label تجدید قیصر. Show all posts
Showing posts with label تجدید قیصر. Show all posts

Monday, 27 April 2026

ٹوٹے ہوئے دلوں کی اجازت نہیں ملی

 ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی

ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی

آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے

آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی

کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں

اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی

Friday, 3 March 2023

بے گھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے

بے گھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے 

دیکھ لینا بھی میری جان بہت ہوتا ہے 

اول اول تو ضروری ہے محبت لیکن 

عزتِ نفس کا نقصان بہت ہوتا ہے 

پاس رہنے کی حقیقت سے بھی ہم واقف ہیں 

چھوڑ جانے کا امكان بہت ہوتا ہے 

Wednesday, 2 February 2022

کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں

 کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں

جس نے جتنا دیکھا سائیں

بے گانہ ہے سب دنیا سے

میرا رنگ رنگیلا سائیں

برفیلی چوٹی پہ جا کر

کس نے دِیا جلایا سائیں

Sunday, 19 September 2021

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

 کسی چراغ کو چُھوتی ہوئی ہوا جیسے

کوئی قریب سے ہو کر گُزر گیا جیسے

گلے لگایا تھا اس نے کہ سب بدلنے لگا

ہمارے دل میں اُتر آیا ہو خدا جیسے

وہ میری بکھری ہوئی زندگی میں یوں آیا

گھنے فریب کے جنگل میں راستہ جیسے

Thursday, 29 July 2021

تیری تصویر اگر بناتے ہم

تیری تصویر اگر بناتے ہم

تیرے بارے میں کیا بتاتے ہم

ڈھونڈنا ہے تجھے اندھیرے میں

اور دِیا بھی نہیں بناتے ہم

آسمانوں کی سمت اُڑتے ہوئے

اپنی دھرتی کے گیت گاتے ہم

Sunday, 27 June 2021

ہوا کی دستک ایک سے دس تک

 ہوا کی دستک ایک سے دس تک


ایک سے دس تک

میں دس تک گنوں گی

وہ ہنستا رہے گا

یا چپ ہو کے

بیٹھا رہے گا چھپے گا نہیں

Saturday, 19 June 2021

اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو

 اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو

اس کی مرضی ہے تم اس پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو

میں نے بس اتنا پوچھا تھا؛ کیا دیکھتے ہو بھلا؟

میں نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو

تم ملو گے نہیں تو میں جیتے جی مر جاؤں گی

با خدا ایسی خوش فہمیاں پالنا چھوڑ دو

Friday, 18 June 2021

جہاں پہ دوستی ہو اس جگہ انائیں کیا

 جہاں پہ دوستی ہو اس جگہ انائیں کیا

کہے اگر تِرے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا

جو ناؤ پار گئی لوٹ کر نہیں آتی

جو شخص ڈوب گیا ہو اسے بچائیں کیا

کسی کی یاد میں جاگیں ستارے دیکھیں ہم

سلگ رہا ہے جو سگریٹ اسے بجھائیں کیا

Thursday, 17 June 2021

پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

 پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

گزریں جو سات دن تو یہ دنیا تمام ہو

پھر ہم بھی ڈھونڈ لائیں گے اپنی طرح کا پھول

پہلے ہمارے باغ کا نقشہ تمام ہو

کب تک میں پھینکتی رہوں شکلیں الاؤ میں

ٹوٹے یہ خواب اور یہ قصہ تمام ہو

یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے

یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے

 مسکراتے ہوئے جدا کریں گے

تُو ہمیں چھوڑ کر  چلا جائے گا 

اور ہم خود سے رابطہ کریں گے

تُو نے سب میں خوشی بکھیری ہے 

ہم تِرے عہد سے وفا کریں گے

Monday, 7 June 2021

جسم کیا دل تک نکھرتے جا رہے ہیں

 جسم کیا دل تک نکھرتے جا رہے ہیں

جیسے جیسے تیری جانب آ رہے ہیں

کھیت کھلیانوں کی خوشبو ہو سلامت

ہم تِری قدرت سے خود کو پا رہے ہیں

کوئی متبادل نہیں تیرا مِری جاں

لوگ اب کس بات کو سُلجھا رہے ہیں

Sunday, 6 June 2021

خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا

 خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا

اپنی تقدیر سے خوش ہوں کہ نیا ہونا تھا

رب نے اچھا ہے تجھے پہلے دِکھا دی دنیا

بعد میں جا کے زیادہ ہی گِلہ ہونا تھا

اس کے ہونے سے تِرا دھیان بھٹک جاتا ہے

وہ نہ ہوتا تو تِرے ساتھ خدا ہونا تھا

Thursday, 3 June 2021

تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے

تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے

نمی چھپائیں گے آنکھوں کی مسکرائیں گے

ہمارے مرنے کی ان کو خبر نہیں ہو گی

علیل جان کے سب دوست لوٹ جائیں گے

وہ ہم سے دُور ہے اپنی غلط بیانی پر

اب اس کا بوجھ بھی ہم اپنے سر اٹھائیں گے

Saturday, 24 April 2021

اسی لیے تو یہاں رتجگا زیادہ ہے

 اسی لیے تو یہاں رت جگا زیادہ ہے

کہ میرے خواب میں وہ جاگتا زیادہ ہے

مجھے تو دور سے عادت ہے اس کو تکنے کی

سو اس کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے

جو زخم عشق لگاتا ہے راس آتے ہیں

مجھے پتہ ہے تیرا تجربہ زیادہ ہے

Friday, 2 April 2021

راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے

 راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے

اپنی آنکھوں میں چھپے راز نہیں دے سکتے

وہ خدا ہے تو گزارش بھی الگ بنتی ہے

سوچتے رہتے ہیں آواز نہیں دے سکتے

اس کہانی میں کئی بار جدائی ہو گی

ڈرتے رہتے ہیں سو آغاز نہیں دے سکتے