ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی
ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی
آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے
آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی
کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں
اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی
ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی
ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی
آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے
آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی
کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں
اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی
بے گھروں کے لیے میدان بہت ہوتا ہے
دیکھ لینا بھی میری جان بہت ہوتا ہے
اول اول تو ضروری ہے محبت لیکن
عزتِ نفس کا نقصان بہت ہوتا ہے
پاس رہنے کی حقیقت سے بھی ہم واقف ہیں
چھوڑ جانے کا امكان بہت ہوتا ہے
کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں
جس نے جتنا دیکھا سائیں
بے گانہ ہے سب دنیا سے
میرا رنگ رنگیلا سائیں
برفیلی چوٹی پہ جا کر
کس نے دِیا جلایا سائیں
کسی چراغ کو چُھوتی ہوئی ہوا جیسے
کوئی قریب سے ہو کر گُزر گیا جیسے
گلے لگایا تھا اس نے کہ سب بدلنے لگا
ہمارے دل میں اُتر آیا ہو خدا جیسے
وہ میری بکھری ہوئی زندگی میں یوں آیا
گھنے فریب کے جنگل میں راستہ جیسے
تیری تصویر اگر بناتے ہم
تیرے بارے میں کیا بتاتے ہم
ڈھونڈنا ہے تجھے اندھیرے میں
اور دِیا بھی نہیں بناتے ہم
آسمانوں کی سمت اُڑتے ہوئے
اپنی دھرتی کے گیت گاتے ہم
ہوا کی دستک ایک سے دس تک
ایک سے دس تک
میں دس تک گنوں گی
وہ ہنستا رہے گا
یا چپ ہو کے
بیٹھا رہے گا چھپے گا نہیں
اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو
اس کی مرضی ہے تم اس پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو
میں نے بس اتنا پوچھا تھا؛ کیا دیکھتے ہو بھلا؟
میں نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو
تم ملو گے نہیں تو میں جیتے جی مر جاؤں گی
با خدا ایسی خوش فہمیاں پالنا چھوڑ دو
جہاں پہ دوستی ہو اس جگہ انائیں کیا
کہے اگر تِرے پیروں میں بیٹھ جائیں کیا
جو ناؤ پار گئی لوٹ کر نہیں آتی
جو شخص ڈوب گیا ہو اسے بچائیں کیا
کسی کی یاد میں جاگیں ستارے دیکھیں ہم
سلگ رہا ہے جو سگریٹ اسے بجھائیں کیا
پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو
گزریں جو سات دن تو یہ دنیا تمام ہو
پھر ہم بھی ڈھونڈ لائیں گے اپنی طرح کا پھول
پہلے ہمارے باغ کا نقشہ تمام ہو
کب تک میں پھینکتی رہوں شکلیں الاؤ میں
ٹوٹے یہ خواب اور یہ قصہ تمام ہو
یوں اسے غم میں مبتلا کریں گے
مسکراتے ہوئے جدا کریں گے
تُو ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا
اور ہم خود سے رابطہ کریں گے
تُو نے سب میں خوشی بکھیری ہے
ہم تِرے عہد سے وفا کریں گے
جسم کیا دل تک نکھرتے جا رہے ہیں
جیسے جیسے تیری جانب آ رہے ہیں
کھیت کھلیانوں کی خوشبو ہو سلامت
ہم تِری قدرت سے خود کو پا رہے ہیں
کوئی متبادل نہیں تیرا مِری جاں
لوگ اب کس بات کو سُلجھا رہے ہیں
خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا
اپنی تقدیر سے خوش ہوں کہ نیا ہونا تھا
رب نے اچھا ہے تجھے پہلے دِکھا دی دنیا
بعد میں جا کے زیادہ ہی گِلہ ہونا تھا
اس کے ہونے سے تِرا دھیان بھٹک جاتا ہے
وہ نہ ہوتا تو تِرے ساتھ خدا ہونا تھا
تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے
نمی چھپائیں گے آنکھوں کی مسکرائیں گے
ہمارے مرنے کی ان کو خبر نہیں ہو گی
علیل جان کے سب دوست لوٹ جائیں گے
وہ ہم سے دُور ہے اپنی غلط بیانی پر
اب اس کا بوجھ بھی ہم اپنے سر اٹھائیں گے
اسی لیے تو یہاں رت جگا زیادہ ہے
کہ میرے خواب میں وہ جاگتا زیادہ ہے
مجھے تو دور سے عادت ہے اس کو تکنے کی
سو اس کا ایک نظر دیکھنا زیادہ ہے
جو زخم عشق لگاتا ہے راس آتے ہیں
مجھے پتہ ہے تیرا تجربہ زیادہ ہے
راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے
اپنی آنکھوں میں چھپے راز نہیں دے سکتے
وہ خدا ہے تو گزارش بھی الگ بنتی ہے
سوچتے رہتے ہیں آواز نہیں دے سکتے
اس کہانی میں کئی بار جدائی ہو گی
ڈرتے رہتے ہیں سو آغاز نہیں دے سکتے