Sunday, 19 September 2021

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

 کسی چراغ کو چُھوتی ہوئی ہوا جیسے

کوئی قریب سے ہو کر گُزر گیا جیسے

گلے لگایا تھا اس نے کہ سب بدلنے لگا

ہمارے دل میں اُتر آیا ہو خدا جیسے

وہ میری بکھری ہوئی زندگی میں یوں آیا

گھنے فریب کے جنگل میں راستہ جیسے

ہے اس کی آنکھ میں جلتے ہوئے بہشت کی آگ

ہر ایک حرف ہے جس کا کوئی دُعا جیسے

اس ایک شخص کو ملتا رہے سبھی کا پیار

بس ایک سمت میں چلتی رہے ہوا جیسے


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment