Showing posts with label مسعود قریشی. Show all posts
Showing posts with label مسعود قریشی. Show all posts

Tuesday, 3 September 2024

ساری امت کو پیارے فقط آپ ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ساری امت کو پیارے فقط آپ ہیں

اس جہاں کے ستارے فقط آپ ہیں

آپﷺ رہبر ہمارے بنے دین کے

حشر میں بھی سہارے فقط آپ ہیں

آپ صادق بھی ہیں اور امیں بھی ہے سچ

اک مثالی اشارے فقط آپﷺ ہیں

Saturday, 15 July 2023

ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا

 ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا

جو زیر لب سبھی کہتے تھے برملا تو کہا

تمام شہر تھا منکر تِرے تعلق سے

غریب شہر تجھے ہم نے آشنا تو کہا

پگھل رہی ہے تغافل کی برف اب شاید

کہ مسکرا کے مجھے یار بے وفا تو کہا

Tuesday, 23 May 2023

مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے

 مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے

ہوں جو برہم تو کٹا طشت میں سر آ جائے

دوستو راہ میں منزل کے نشاں بھی دیکھو

چلتے چلتے نہ پھر آغاز سفر آ جائے

منفرد حسن کی دشوار ہے پردہ داری

سو حجابوں میں بھی انداز نظر آ جائے

Tuesday, 9 May 2023

عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا

عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا 

کہ تُو رضا سے مقدر ہوا قضا سے نہ تھا 

یہ حالِ زار تو آشوبِ آگہی سے ہوا 

کہ گُل دریدہ جگر موجۂ صبا سے نہ تھا 

کھنڈر تو شہرِ دل اندر کے زلزلوں سے ہوا 

یہ ظلم تیری جفا یا تِری وفا سے نہ تھا 

Tuesday, 7 June 2022

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

 خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا

فدا ہوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف

بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

Sunday, 17 October 2021

سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

بچ رہے یوں کہ زمانے نے فسانہ جانا

سخت معتوب رہے اور خطا اتنی تھی

جو خدا نہ تھا اسے ہم نے خدا نہ جانا

اس قدر بھی نہ جری تھے کہ الجھتے سب سے

شور شب خوں کو مگر بانگ< درا نہ جانا

Saturday, 31 July 2021

بستیاں چپ جو ہوئیں بن بولے

 بستیاں چُپ جو ہوئیں بن بولے

شہرِ خاموش میں مدفن بولے

باغبانی کا ہے سب کو دعوے

آ گیا وقت کہ گُلشن بولے

نوکِ خنجر پہ صدا تُلتی ہے

اب اگر بول سکے فن بولے