عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ساری امت کو پیارے فقط آپ ہیں
اس جہاں کے ستارے فقط آپ ہیں
آپﷺ رہبر ہمارے بنے دین کے
حشر میں بھی سہارے فقط آپ ہیں
آپ صادق بھی ہیں اور امیں بھی ہے سچ
اک مثالی اشارے فقط آپﷺ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ساری امت کو پیارے فقط آپ ہیں
اس جہاں کے ستارے فقط آپ ہیں
آپﷺ رہبر ہمارے بنے دین کے
حشر میں بھی سہارے فقط آپ ہیں
آپ صادق بھی ہیں اور امیں بھی ہے سچ
اک مثالی اشارے فقط آپﷺ ہیں
ستم کا ہاتھ نہ روکا مگر برا تو کہا
جو زیر لب سبھی کہتے تھے برملا تو کہا
تمام شہر تھا منکر تِرے تعلق سے
غریب شہر تجھے ہم نے آشنا تو کہا
پگھل رہی ہے تغافل کی برف اب شاید
کہ مسکرا کے مجھے یار بے وفا تو کہا
مسکرا دیں تو کوئی خیر خبر آ جائے
ہوں جو برہم تو کٹا طشت میں سر آ جائے
دوستو راہ میں منزل کے نشاں بھی دیکھو
چلتے چلتے نہ پھر آغاز سفر آ جائے
منفرد حسن کی دشوار ہے پردہ داری
سو حجابوں میں بھی انداز نظر آ جائے
عذاب ہم پہ جو نازل ہوا خدا سے نہ تھا
کہ تُو رضا سے مقدر ہوا قضا سے نہ تھا
یہ حالِ زار تو آشوبِ آگہی سے ہوا
کہ گُل دریدہ جگر موجۂ صبا سے نہ تھا
کھنڈر تو شہرِ دل اندر کے زلزلوں سے ہوا
یہ ظلم تیری جفا یا تِری وفا سے نہ تھا
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا
فدا ہوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا
بچ رہے یوں کہ زمانے نے فسانہ جانا
سخت معتوب رہے اور خطا اتنی تھی
جو خدا نہ تھا اسے ہم نے خدا نہ جانا
اس قدر بھی نہ جری تھے کہ الجھتے سب سے
شور شب خوں کو مگر بانگ< درا نہ جانا
بستیاں چُپ جو ہوئیں بن بولے
شہرِ خاموش میں مدفن بولے
باغبانی کا ہے سب کو دعوے
آ گیا وقت کہ گُلشن بولے
نوکِ خنجر پہ صدا تُلتی ہے
اب اگر بول سکے فن بولے