Sunday, 17 October 2021

سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

سچ کے اظہار کا شعروں کو بہانہ جانا

بچ رہے یوں کہ زمانے نے فسانہ جانا

سخت معتوب رہے اور خطا اتنی تھی

جو خدا نہ تھا اسے ہم نے خدا نہ جانا

اس قدر بھی نہ جری تھے کہ الجھتے سب سے

شور شب خوں کو مگر بانگ< درا نہ جانا

اب کے الزام لگا ہم پہ کھلی آنکھوں کا

جو نظر آیا اسے اس سے سوا نہ جانا

کم ہی ملتے ہو مگر یہ ہے یقیں کا عالم

ہم نے پل بھر کو تمہیں خود سے جدا نہ جانا

میں وہ نا شکر کہ ہر بار ملاقات کے بعد

میں نے ہر لمحۂ فرقت کو زمانہ جانا

رحم کھاتے ہیں ہیں مِرے حال پہ اہل دنیا

میں نے ایمان کو دنیا میں خزانہ جانا


احمد مسعود قریشی

No comments:

Post a Comment