یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے
ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے
کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے
کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو
ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے
یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے
ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے
کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے
کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو
ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے
بجھتے ہوئے دِیے کو بچانے لگی ہوں میں
خود کو ہوا کے سامنے لانے لگی ہوں میں
یہ جرأتِ نگاہ کسی اور میں نہیں
سورج کو دیکھ آنکھ دِکھانے لگی ہوں میں
اے گردِ خواہشات! میری ہم سفر نہ ہو
دامن یہاں سے جھاڑ کے جانے لگی ہوں میں
کیسے تنہا رہ سکتے ہیں میں اور تم
یعنی جسم و جاں جیسے ہیں میں اور تم
ویسے پیار کا ڈھول بجا کر دنیا میں
اس دنیا سے کیا سیکھے ہیں میں اور تم
دنیا سے ہر رشتہ اپنا ٹوٹ چکا
اک دوجے سے جب کہ جڑے ہیں میں اور تم
لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں
ہم مگر تیرے اشاروں کی طرف دیکھتے ہیں
تیری جانب جو نظر ہے تو تعجب کیسا
ڈوبنے والے کناروں کی طرف دیکھتے ہیں
اپنی پہچان بنانے کے ہیں اپنے انداز
خار چھبتے ہیں تو خاروں کی طرف دیکھتے ہیں
خزاں کے مجھ پر عذاب دیکھو
پلک سے جھڑتے ہیں خواب دیکھو
ہے حسنِ فطرت کا رنگ یہ بھی
اُفق پہ کھلتے گلاب دیکھو
عجیب چاہت ہوئی ہے تم سے
محبتوں کے نصاب دیکھو
حصارِ ذات میں رہتی ہوں، بولتی نہیں ہوں
تمہارے ظلم تو سہتی ہوں بھولتی نہیں ہوں
لکھا ہے جو بھی مقدر میں، ہو ہی جائے گا
تمہاری طرح زیادہ میں سوچتی نہیں ہوں
بس ایک بار کا انجام یاد رہتا ہے
تمہارے بعد کسی سے میں روٹھتی نہیں ہوں