Showing posts with label رخسانہ سحر. Show all posts
Showing posts with label رخسانہ سحر. Show all posts

Saturday, 10 October 2026

یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے کھال نوچتا ہے

 یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے 

ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے

کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے

کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے 

یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو

ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے 

Sunday, 26 June 2022

بجھتے ہوئے دیے کو بچانے لگی ہوں میں

 بجھتے ہوئے دِیے کو بچانے لگی ہوں میں

خود کو ہوا کے سامنے لانے لگی ہوں میں

یہ جرأتِ نگاہ کسی اور میں نہیں

سورج کو دیکھ آنکھ دِکھانے لگی ہوں میں

اے گردِ خواہشات! میری ہم سفر نہ ہو

دامن یہاں سے جھاڑ کے جانے لگی ہوں میں

Friday, 21 January 2022

کیسے تنہا رہ سکتے ہیں میں اور تم

 کیسے تنہا رہ سکتے ہیں میں اور تم

یعنی جسم و جاں جیسے ہیں میں اور تم

ویسے پیار کا ڈھول بجا کر دنیا میں

اس دنیا سے کیا سیکھے ہیں میں اور تم

دنیا سے ہر رشتہ اپنا ٹوٹ چکا

اک دوجے سے جب کہ جڑے ہیں میں اور تم

Wednesday, 12 January 2022

لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں

 لوگ قسمت کے ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں 

ہم مگر تیرے اشاروں کی طرف دیکھتے ہیں

تیری جانب جو نظر ہے تو تعجب کیسا 

ڈوبنے والے کناروں کی طرف دیکھتے ہیں

اپنی پہچان بنانے کے ہیں اپنے انداز 

خار چھبتے ہیں تو خاروں کی طرف دیکھتے ہیں

Monday, 7 June 2021

خزاں کے مجھ پر عذاب دیکھو

 خزاں کے مجھ پر عذاب دیکھو

پلک سے جھڑتے ہیں خواب دیکھو

ہے حسنِ فطرت کا رنگ یہ بھی

اُفق پہ کھلتے گلاب دیکھو

عجیب چاہت ہوئی ہے تم سے

محبتوں کے نصاب دیکھو

Friday, 16 April 2021

حصار ذات میں رہتی ہوں بولتی نہیں ہوں

 حصارِ ذات میں رہتی ہوں، بولتی نہیں ہوں

تمہارے ظلم تو سہتی ہوں بھولتی نہیں ہوں

لکھا ہے جو بھی مقدر میں، ہو ہی جائے گا

تمہاری طرح زیادہ میں سوچتی نہیں ہوں

بس ایک بار کا انجام یاد رہتا ہے

تمہارے بعد کسی سے میں روٹھتی نہیں ہوں