خزاں کے مجھ پر عذاب دیکھو
پلک سے جھڑتے ہیں خواب دیکھو
ہے حسنِ فطرت کا رنگ یہ بھی
اُفق پہ کھلتے گلاب دیکھو
عجیب چاہت ہوئی ہے تم سے
محبتوں کے نصاب دیکھو
حنوط چہرے سلگتی آنکھیں
دلوں میں پلتے عذاب دیکھو
وہ کہہ رہا تھا ابھی نہ جاؤ
سفر کے تازہ سراب دیکھو
ہے سوہنی کے بھی ڈوبنے پر
سکوت میں ہے چناب دیکھو
طلسمِ شب ٹوٹنے لگا ہے
سحر کو تم بے نقاب دیکھو
رخسانہ سحر
No comments:
Post a Comment