Monday, 7 June 2021

بدلی تری نظر تو بدلنا پڑا مجھے

 بدلی تری نظر تو بدلنا پڑا مجھے

تیرے ہی رنگ میں خود کو بھی رنگنا پڑا مجھے

ممکن نہیں ہے پانی میں رہ کر مگر سے بیر

سمجھوتہ اس لحاظ سے کرنا پڑا مجھے

میں جانتا تھا وعدۂ فردا ہے اک فریب

وعدے پر تیرے پھر بھی بہلنا پڑا مجھے

سوزِ غم فراق کی اللہ رے یہ تپش

اپنی لگائی آگ میں جلنا پڑا مجھے

اپنی ہی دید کا میں طلب گار جب ہوا

پھر آدمی کی شکل میں ڈھلنا پڑا مجھے

ہنسنے کا گو مآل ہے میری نگاہ میں

مضطر پھر اس کے بعد بھی بننا پڑا مجھے


مضطر افتخاری

No comments:

Post a Comment