یہ بن سنور کے مِری سادگی میں لوٹ آئے
مِرے خیال مِری شاعری میں لوٹ آئے
اسے کہو کہ مِری ذات اب بھی باقی ہے
دیا بجھا دے مِری روشنی میں لوٹ آئے
وہ جس طرح سے پرندے شجر پہ لوٹتے ہیں
ہم اپنے آپ سے نکلے تجھی میں لوٹ آئے
جو میں ہنسوں تو مِرا اشک بن کے وہ چھلکے
کسی طرح سے وہ میری ہنسی میں لوٹ آئے
خوشی ملی بھی تو ہم کو کبھی نہ راس آئی
اداسیوں کے سبب اس خوشی میں لوٹ آئے
پھسلتی ریت سا ہاتھوں سے گر گیا تھا جو
وہ گزرا وقت کبھی پھر گھڑی میں لوٹ آئے
ہمیں تو ایک ہی چہرے کا کام ہوتا ہے
ہٹا کے بھیڑ کو ہم پھر اسی میں لوٹ آئے
بڑے غرور سے نکلے تھے الوداع کہہ کر
بس ایک بار پکارا گلی میں لوٹ آئے
عائشہ ایوب
No comments:
Post a Comment