پتھرائی ہوئی آنکھوں کو بینائی عطا کر
رنگوں کو ملا چہروں کو یکتائی عطا کر
ہر چشم صدف قطرۂ نیساں کے لیے کھول
ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر
صحرا کے لیے بھیج سمندر سے دشا لے
ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر
پتھرائی ہوئی آنکھوں کو بینائی عطا کر
رنگوں کو ملا چہروں کو یکتائی عطا کر
ہر چشم صدف قطرۂ نیساں کے لیے کھول
ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر
صحرا کے لیے بھیج سمندر سے دشا لے
ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر
حرم و دَیر و کلیسا سے نکل آیا ہوں
تب کہیں جا کے میں انسان سے مل پایا ہوں
کالے پتھر پہ بھٹکتے ہوئے قدموں کے نشاں
مجھ سے ملیے میں نئی نسل کا سرمایہ ہوں
میں بھی احساس کی بھٹی میں پڑا ہوں یہ بتا
کیسے انگارے تِری ہلکوں پہ دیکھ آیا ہوں
برسوں میں کہاں قید رہا پوچھ کے دیکھوں
کس نے مجھے آزاد کیا پوچھ کے دیکھوں
دُہرائی گئی کب مِرے پیچھے وہ کہانی
تھا کون جو عُنوان بنا پوچھ کے دیکھوں
سمجھا تھا کہ تنہا ہوں مگر ساتھ تھا کوئی
ہمراہ مِرے کون رہا پوچھ کے دیکھوں؟
گھر کے نقش و نگار کی صورت
نقش ہے دل پہ یار کی صورت
اف یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں
انکھڑیوں میں خمار کی صورت
ہر دریچے میں ہے چراغ کا گل
اب ہے یہ انتظار کی صورت