Showing posts with label محمد احمد نقوی. Show all posts
Showing posts with label محمد احمد نقوی. Show all posts

Wednesday, 17 September 2025

پتھرائی ہوئی آنکھوں کو بینائی عطا کر

 پتھرائی ہوئی آنکھوں کو بینائی عطا کر

رنگوں کو ملا چہروں کو یکتائی عطا کر

ہر چشم صدف قطرۂ نیساں کے لیے کھول

ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر

صحرا کے لیے بھیج سمندر سے دشا لے

ان جھلسے ہوئے جسموں کو رعنائی عطا کر

Thursday, 6 February 2025

حرم و دیر و کلیسا سے نکل آیا ہوں

 حرم و دَیر و کلیسا سے نکل آیا ہوں

تب کہیں جا کے میں انسان سے مل پایا ہوں

کالے پتھر پہ بھٹکتے ہوئے قدموں کے نشاں

مجھ سے ملیے میں نئی نسل کا سرمایہ ہوں

میں بھی احساس کی بھٹی میں پڑا ہوں یہ بتا

کیسے انگارے تِری ہلکوں پہ دیکھ آیا ہوں

Friday, 7 October 2022

برسوں میں کہاں قید رہا پوچھ کے دیکھوں

برسوں میں کہاں قید رہا پوچھ کے دیکھوں

کس نے مجھے آزاد کیا پوچھ کے دیکھوں

دُہرائی گئی کب مِرے پیچھے وہ کہانی

تھا کون جو عُنوان بنا پوچھ کے دیکھوں

سمجھا تھا کہ تنہا ہوں مگر ساتھ تھا کوئی

ہمراہ مِرے کون رہا پوچھ کے دیکھوں؟

Monday, 4 April 2022

گھر کے نقش و نگار کی صورت

گھر کے نقش و نگار کی صورت

نقش ہے دل پہ یار کی صورت

اف یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں

انکھڑیوں میں خمار کی صورت

ہر دریچے میں ہے چراغ کا گل

اب ہے یہ انتظار کی صورت