روایت آپ ہی جِدّت کے حق میں بیٹھ گئی
قدیم دور کی پٹڑی سڑک میں بیٹھ گئی
ہمارے مِلتے ہی قطبی ستارا ڈُوب گیا
وہ رہنمائی کی حسرت فلک میں بیٹھ گئی
وہ لالٹین جو سِگنل کے پاس ٹُوٹ گئی
وہ پوری آنکھ ادھوری دھنک میں بیٹھ گئی
اُتر کے غار کے پتھر سے جھُولتی تاریخ
قلم کے راستے نازک ورق میں بیٹھ گئی
سَروں پہ گُھومتے پنکھوں کی بے سُری آواز
دِلوں میں گُونجنے والی دھمک میں بیٹھ گئی
ہمایوں خان
No comments:
Post a Comment