مرنے کے انتظار میں زندہ رہا ہوں میں
شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہا ہوں میں
منزل کی بات چھوڑئیے رستے بھی کھو گئے
لگتا ہے جیسے خواب میں چلتا رہا ہوں
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا ہے غور سے
ویسا نہیں ہوں جیسا کہ لگتا رہا ہوں میں
زندہ دِلی تو خیر میسّر نہ آ سکی
ہاں زندگی کے جشن مناتا رہا ہوں میں
پائی نہیں ہے میں نے کبھی ناقدوں سے داد
سیماب اپنے فن میں تو یکتا رہا ہوں میں
سیماب سلطانپوری
دھرم ویر دھیر
No comments:
Post a Comment