Wednesday, 29 July 2026

مرنے کے انتظار میں زندہ رہا ہوں میں

 مرنے کے انتظار میں زندہ رہا ہوں میں

شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہا ہوں میں

منزل کی بات چھوڑئیے رستے بھی کھو گئے

لگتا ہے جیسے خواب میں چلتا رہا ہوں 

آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا ہے غور سے

ویسا نہیں ہوں جیسا کہ لگتا رہا ہوں میں

زندہ دِلی تو خیر میسّر نہ آ سکی

ہاں زندگی کے جشن مناتا رہا ہوں میں

پائی نہیں ہے میں نے کبھی ناقدوں سے داد

سیماب اپنے فن میں تو یکتا رہا ہوں میں


سیماب سلطانپوری

دھرم ویر دھیر

No comments:

Post a Comment