Thursday, 30 July 2026

صورت آب کو بھی صورت صحرا رکھے

صورتِ آب کو بھی صورتِ صحرا رکھے

وہ تو ہر خواب کی تعبیر کو اُلٹا رکھے

ابرِ چاہت کوئی آئے کہ یہاں آگ بجھے

"ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ صحرا رکھے"

تھک گیا ہوں یہاں کردار نبھاتے ہوئے میں

بس کہانی سے مُجھے اب وہ الگ سا رکھے

کیے برباد کئی شہر کہ ہیں شہر یہاں

یہ محبت نہ کسی شہر کو بستا رکھے

ڈھونڈ اپنا سا وہ چہرہ جو تِرے جانے کے بعد

میرے چہرے کو کسی طور نہ تنہا رکھے

زندگی اپنے تصرّف میں نہیں ہے انمؔول

کب تلک کون مُسلسل کسے زندہ رکھے


نعیم اللہ انمول 

No comments:

Post a Comment