خیابانوں میں سبزہ بولتا ہے
گھٹا برسے تو صحرا بولتا ہے
یہاں جو سانس لینا بولتا ہے
وہ دم بھرتا ہے تیرا بولتا ہے
برے جو کام کرنا بولتا ہے
برا ہی نام اس کا بولتا ہے
خیابانوں میں سبزہ بولتا ہے
گھٹا برسے تو صحرا بولتا ہے
یہاں جو سانس لینا بولتا ہے
وہ دم بھرتا ہے تیرا بولتا ہے
برے جو کام کرنا بولتا ہے
برا ہی نام اس کا بولتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لبِ امروز پر ہے نعت ان کی
جو ماضی میں ہے فردا بولتا ہے
انہی کے ہاتھ ہے اب لاج میری
رُخِ ہستی کا پردہ بولتا ہے
انہیں پر ناز کرتا ہے زمانہ
وہی ہیں سب کے نیتا بولتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فطرت انساں کے ظاہر ان پہ راز
خدمتِ انسانیت ان کی نماز
کرتے ہیں بندوں میں وہ رب کی تلاش
فکر میں ان کے نہیں ہے ارتعاش
ان کی ہستی رہبرِ اہلِ خرد
ان کے دم سے امتیازِ نیک و بد
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ ہے مالک اجل کا بولتا ہے
وہ ہے مالک اجل کا بولتا ہے
تِرے ہم کُن سے پیدا ہے زمانہ
ہر اک جا تیرا جلوہ بولتا ہے
نہیں خالی کوئی تیرے کرم سے
جو ہے وہ شکر تیرا بولتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کا جو آنا بولتا ہے
بہاروں کا وہ مژدہ بولتا ہے
یہاں جو مصطفیٰؐ کا بولتا ہے
خدا سے اس کا ناطہ بولتا ہے
محمدؐ رحمۃُ للعالمیںﷺ ہیں
یہ فرماں رب تعالیٰ بولتا ہے
نوائے بے نوا کوئی نہیں ہے
مگر دل بے صدا کوئی نہیں ہے
یہاں پر بے خطا کوئی نہیں ہے
مگر اس کی سزا کوئی نہیں ہے
تِرے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں
ہمارا نقشِ پا کوئی نہیں ہے