Showing posts with label عاشق کیرانوی. Show all posts
Showing posts with label عاشق کیرانوی. Show all posts

Thursday, 8 August 2024

خیابانوں میں سبزہ بولتا ہے

خیابانوں میں سبزہ بولتا ہے

گھٹا برسے تو صحرا بولتا ہے

یہاں جو سانس لینا بولتا ہے

وہ دم بھرتا ہے تیرا بولتا ہے

برے جو کام کرنا بولتا ہے

برا ہی نام اس کا بولتا ہے

Tuesday, 25 June 2024

لب امروز پر ہے نعت ان کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لبِ امروز پر ہے نعت ان کی

جو ماضی میں ہے فردا بولتا ہے

انہی کے ہاتھ ہے اب لاج میری

رُخِ ہستی کا پردہ بولتا ہے

انہیں پر ناز کرتا ہے زمانہ

وہی ہیں سب کے نیتا بولتا ہے

Friday, 21 June 2024

فطرت انساں کے ظاہر ان پہ راز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فطرت انساں کے ظاہر ان پہ راز

خدمتِ انسانیت ان کی نماز

کرتے ہیں بندوں میں وہ رب کی تلاش

فکر میں ان کے نہیں ہے ارتعاش

ان کی ہستی رہبرِ اہلِ خرد

ان کے دم سے امتیازِ نیک و بد

Wednesday, 19 June 2024

وہ ہے مالک اجل کا بولتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ ہے مالک اجل کا بولتا ہے

وہ ہے مالک اجل کا بولتا ہے

تِرے ہم کُن سے پیدا ہے زمانہ

ہر اک جا تیرا جلوہ بولتا ہے

نہیں خالی کوئی تیرے کرم سے

جو ہے وہ شکر تیرا بولتا ہے

Tuesday, 18 June 2024

محمد کا جو آنا بولتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدﷺ کا جو آنا بولتا ہے

بہاروں کا وہ مژدہ بولتا ہے

یہاں جو مصطفیٰؐ کا بولتا ہے

خدا سے اس کا ناطہ بولتا ہے

محمدؐ رحمۃُ للعالمیںﷺ ہیں

یہ فرماں رب تعالیٰ بولتا ہے

Tuesday, 6 July 2021

نوائے بے نوا کوئی نہیں ہے

 نوائے بے نوا کوئی نہیں ہے

مگر دل بے صدا کوئی نہیں ہے

یہاں پر بے خطا کوئی نہیں ہے

مگر اس کی سزا کوئی نہیں ہے

تِرے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں

ہمارا نقشِ پا کوئی نہیں ہے