ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس
پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس
برفزاروں میں نہ جل اب کے برس
التجا کرتا ہے دل اب کے برس
تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت
دیکھ لے اور کے بل اب کے برس
گُفتگو میں بھی بھلائی ہے بہت
امن کا ہے یہ محل اب کے برس
اب کتابوں میں نہ ہو پھیر بدل
اپنے تیور ہی بدل اب کے برس
کس کے بل پر یہ اُلٹ پھیر کریں
کُھل ہی جائیں گے یہ بل اب کے برس
ہاتھ میں زرد نصابوں کے کتب
ہو نہ کاندھوں پہ حمل اب کے برس
ڈاکٹر صغریٰ عالم
No comments:
Post a Comment