Wednesday, 7 October 2026

مہربان گاؤں کے لوگ اور گھر سارے

 کم نصیبی


مہربان گاؤں کے

لوگ اور گھر سارے

جھیل، راستے، جھرنے

سائباں شجر سارے

منتظر ہی رہتے ہیں

ہم مگر نہیں جاتے


خود سے دور رہ کر ہم

کس قدر ہیں بے مایہ

قدردان گاؤں کو

لوٹ کر نہیں جاتے

کیسی بدنصیبی ہے

در بدر ہیں شہروں میں

اپنے گھر نہیں جاتے


راشد عباسی

No comments:

Post a Comment