Showing posts with label آزاد انصاری. Show all posts
Showing posts with label آزاد انصاری. Show all posts

Wednesday, 23 June 2021

نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں

 نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں

مسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں

اُدھر پہلو سے وہ اٹھے، اِدھر دنیا سے ہم اٹھے

چلو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی بے کار بیٹھے ہیں

کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے

نہ تم بے کار بیٹھے ہو نہ ہم بےکار بیٹھے ہیں

Tuesday, 22 June 2021

ستم دوست فکر عداوت کہاں تک

 ستم دوست فکر عداوت کہاں تک

کہاں تک وفا سے بغاوت کہاں تک

خلاف سلوک محبت کے خُوگر

خلاف سلوک محبت کہاں تک

مسلسل ستم کی حکومت کے بانی

مسلسل ستم کی حکومت کہاں تک

Monday, 21 June 2021

حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا

 حق بنا، باطل بنا، ناقص بنا، کامل بنا

جو بنانا ہو بنا، لیکن کسی قابل بنا

شوق کے لائق بنا، ارمان کے قابل بنا

اہلِ دل بننے کی حسرت ہے تو دل کو دل بنا

عقدہ تو بے شک کھلا لیکن بہ صد دِقت کھلا

کام تو بے شک بنا لیکن بہ صد مشکل بنا

Thursday, 22 April 2021

چمن ہے بہاریں ہیں گلباریاں ہیں

 چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں​

گھٹا ہے، پھواریں ہیں، میخواریاں ہیں​

ستم کوشیاں ہیں، جفا کاریاں ہیں​

یہ کس کے مٹانے کی تیاریاں ہیں​

بتو! تم خدا جانے کیسے خدا ہو​

کہ ستاریاں ہیں، نہ غفاریاں ہیں

Saturday, 5 December 2020

اب ہم کو خوف قید زماں و مکاں کہاں

 اب ہم کو خوفِ قیدِ زماں و مکاں کہاں؟

اب جس جہاں میں ہم ہیں وہاں یہ جہاں کہاں

اب قلب میں وہ برقِ محبت طپاں کہاں

اب جسم میں وہ روحِ رواں و دواں کہاں

جورِ فلک سے تو مفر آساں ہے مگر

تیری نگاہِ لطف سے شکلِ اماں کہاں