نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں
مسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں
اُدھر پہلو سے وہ اٹھے، اِدھر دنیا سے ہم اٹھے
چلو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی بے کار بیٹھے ہیں
کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے
نہ تم بے کار بیٹھے ہو نہ ہم بےکار بیٹھے ہیں