جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں
اور وہی ہیں دور نظر سے جو جانے پہچانے ہیں
زنجیروں کا بوجھ لیے ہیں بے دیوار کے زنداں میں
پھر بھی کچھ آواز نہیں ہے، کیسے یہ دیوانے ہیں
بچ بچ کر چلتے ہیں ہر دم شیشے کی دیواروں سے
کون کہے دیوانہ ان کو؟ یہ تو سب فرزانے ہیں