Showing posts with label فرحت قادری. Show all posts
Showing posts with label فرحت قادری. Show all posts

Thursday, 21 July 2022

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں

 جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں

اور وہی ہیں دور نظر سے جو جانے پہچانے ہیں

زنجیروں کا بوجھ لیے ہیں بے دیوار کے زنداں میں

پھر بھی کچھ آواز نہیں ہے، کیسے یہ دیوانے ہیں

بچ بچ کر چلتے ہیں ہر دم شیشے کی دیواروں سے

کون کہے دیوانہ ان کو؟ یہ تو سب فرزانے ہیں

Saturday, 25 December 2021

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے

 راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے

سب نام و نسب والے، بے نام و نسب نکلے

تعمیر پسندی نے کچھ زیست پر اُکسایا

کچھ موت کے ساماں بھی جینے کا سبب نکلے

یہ نور کے سوداگر خود نور سے عاری ہیں

گردُوں پہ مہ و انجم تنویر طلب نکلے

Tuesday, 7 December 2021

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

 کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

ہر نفس اپنی کہانی میں نیا پن مانگے

دشت افکار میں ہم سے نئے موسم کا مزاج

بجلیاں تنکوں کی شعلوں کا نشیمن مانگے

رات بھر گلیوں میں یخ بستہ ہواؤں کی صدا

کسی کھڑکی کی سلگتی ہوئی چلمن مانگے

Monday, 6 December 2021

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

 آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے

میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی

آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے

انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں

بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے

Sunday, 5 December 2021

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

 تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

مانا وہ بے عمل تھا مگر آگہی تو تھی

الزام نارسی سے مبرا نہیں تھی سیپ

لیکن کسی کے شوق میں ڈوبی ہوئی تو تھی

مانا وہ دشت شوق میں پیاسا ہی مر گیا

اک جھیل جستجو کی پسِ تشنگی تو تھی

Monday, 28 June 2021

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

 وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

مگر نفرت کا جذبہ بھی نہیں ہے

یہاں کیوں بجلیاں منڈلا رہی ہیں

یہاں تو ایک تنکا بھی نہیں ہے

برہنہ سر میں صحرا میں کھڑا ہوں

کوئی بادل کا ٹکڑا بھی نہیں ہے