Monday, 6 December 2021

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

 آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے

میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی

آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے

انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں

بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے

پھر کیا کرے گا رہ کے کوئی تیرے شہر میں

راتیں ہی جب نصیب ہوں راتیں گزار کے

سوچا ہے اپنے زخموں کے آنگن میں بیٹھ کر

سجدے کروں گا نقشِ تمنا ابھار کے

تنہائیوں کا درد سمیٹے ہوئے کوئی

فرحت چلا ہے ٹھوکریں دنیا کو مار کے


فرحت قادری

No comments:

Post a Comment