Showing posts with label شکیب جلالی. Show all posts
Showing posts with label شکیب جلالی. Show all posts

Saturday, 29 July 2023

دلوں میں درد سا اٹھا لیا جو نام حسین

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دلوں میں درد سا اٹھا، لیا جو نامِ حسینؑ

مثالِ برق تڑپنے لگے غلامِ حسینؑ

لبِ فُرات جو پیاسے رہے امامِ حسینؑ

خدا نے بھر دیا آبِ بقاء سے جامِ حسینؑ

رضا و صبر میں ان کا جواب کیا ہو گا

کہ جب بھی تیر لگا، ہنس دئیے امامِ حسینؑ

Wednesday, 5 July 2023

وہ کون ہے جو تمہارا سراغ پا نہ سکا

 وہ کون ہے جو تمہارا سُراغ پا نہ سکا

کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا

وہ اپنا معنوی چہرہ مجھے دِکھا نہ سکا

اس آئینے سے کوئی بھی نظر ملا نہ سکا

یہ ٹھنڈی آگ جُدا ہے بدن کے شعلے سے

بدن کا شعلہ مِری رُوح کو جلا نہ سکا

Saturday, 22 April 2023

سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں

احباب کو عید مبارک

جشن عید


سبھی نے عید منائی مِرے گلستاں میں

کسی نے پھول پِروئے کسی نے خار چُنے

بنامِ اذنِ تکلم،۔ بنامِ جبرِ سکوت

کسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بُنے

بڑے غضب کا گلستاں میں جشنِ عید ہوا

کہیں تو بجلیاں کوندیں، کہیں چنار جلے

Saturday, 30 April 2022

دشت و صحرا اگر بسائے ہیں

 دشت و صحرا اگر بسائے ہیں

ہم گلستاں میں کب سمائے ہیں

آپ نغموں کے منتظر ہوں گے

ہم تو فریاد لے کے آئے ہیں

ایک اپنا دِیا جلانے کو

تم نے لاکھوں دِیے بجھائے ہیں

Thursday, 21 April 2022

موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے

 موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے

میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے

اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا

آئینہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے

کتنی گم سم مِرے آنگن سے صبا گزری ہے

اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے

Wednesday, 20 April 2022

دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک

 دل میں لرزاں ہے تِرا شعلۂ رخسار اب تک

میری منزل میں نہیں رات کے آثار اب تک

پھول مُرجھا گئے، گُلدان بھی گِر کر ٹُوٹا

کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک

حسرتِ دادِ نہاں ہے مِرے دل میں شاید

یاد آتی ہے مجھے قامتِ دلدار اب تک

Thursday, 7 April 2022

عشق کے غمگسار ہیں ہم لوگ

 عشق کے غمگسار ہیں ہم لوگ

حسن کے رازدار ہیں ہم لوگ

دست قدرت کو ناز ہے ہم پر

وقت کے شاہکار ہیں ہم لوگ

ہم سے قائم ہے گلستاں کا بھرم

آبروئے بہار ہیں ہم لوگ

Sunday, 3 April 2022

کوئی دیکھے تو سہی یار طرحدار کا شہر

 کوئی دیکھے تو سہی یار طرحدار کا شہر

میری آنکھوں میں سجا ہے لب و رخسار کا شہر

دشتِ احساس میں شعلہ سا کوئی لپکا تھا

اسی بنیاد پہ تعمیر ہوا پیار کا شہر

اس کی ہر بات میں ہوتا ہے کسی بھید کا رنگ

وہ طلسمات کا پیکر ہے کہ اسرار کا شہر

Friday, 16 October 2020

سرو سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں

 سرو سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں

مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں

چھوٹی سی اِک خلوص کی دنیا بسائیں گے

آبادیوں سے دور چناروں کے سائے میں

تاریکیوں میں اور سیاہی نہ گھولیے

زلفیں بکھیریے نہ ستاروں کے سائے میں

Wednesday, 7 October 2020

جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

 جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

میں ہاتھ کی لکیریں مٹانے پہ ہوں بضد

گو جانتا ہوں نقش نہیں یہ سلیٹ کے

دنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا

پھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے

Thursday, 10 September 2020

بدقسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا
ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
رہ تو گئی فریبِ مسیحا کی آبرو
ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا
خوش ہوں کہ بات شورشِ طوفاں کی رہ گئی
اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا

ہر ایک بات ہے منت کش زباں لوگو

ہر ایک بات ہے منت کشِ زباں لوگو
نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو
کچھ اس طرح وہ حقائق کو سن کے چونک اٹھے
بکھر گئیں سرِ محفل پہیلیاں لوگو
مِرے لبوں سے کوئی بات بھی نہیں نکلی
مگر تراش لیں تم نے کہانیاں لوگو

Friday, 4 September 2020

آئینۂ جذبات نہاں ہیں تری آنکھیں

آئینۂ جذباتِ نہاں ہیں تِری آنکھیں
اک کارگہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیں
سر چشمۂ افکار جواں ہیں تری آنکھیں
تابندہ خیالات کی جاں ہیں تری آنکھیں
اندازِ خموشی میں ہے گفتار کا پہلو
گویا نہ سہی، چپ بھی کہاں ہیں تری آنکھیں

اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے

اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سے
دامن بچا کے گزرو یادوں کی رہگزر سے
ہر ہر قدم پہ آنکھیں تھیں فرشِ راہ لیکن
وہ روشنی کا ہالا اترا نہ بام پر سے
کیوں جادۂ وفا پر مشعل بکف کھڑے ہو
اس سیلِ تیرگی میں نکلے گا کون گھر سے

میں روشنی کا مغنی کرن کرن کا سفیر

سفیر

میں روشنی کا مغنی کرن کرن کا سفیر
وہ سیلِ مہ سے کہ رودِ شرار سے آئے
وہ جامِ مے سے کہ چشمِ نگار سے آئے
وہ موجِ باد سے یا آبشار سے آئے
وہ دستِ گل سے کہ پائے فگار سے آئے
وہ لوحِ جاں سے کہ طاقِ مزار سے آئے

Wednesday, 2 September 2020

تمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزری

تمہیں بھی علم ہو اہلِ وفا پہ کیا گزری
تم اپنے خونِ جگر سے کبھی وضو تو کرو
نہیں ہے ریشم و کمخواب کی قبا نہ سہی
ہمارے دامنِ صد چاک کو رفو تو کرو
نگارِ صبحِ گریزاں کی تابشوں کو کبھی
ہمارے خانۂ ظلمت کے رو برو تو کرو

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

انفرادیت پرست

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے
زندگی سے اسے نسبت کیا ہے
آندھی اٹھے تو اڑا لے جائے
موج بپھرے تو بہا لے جائے
ایک انساں کی حقیقت کیا ہے
ڈگمگائے تو سہارا نہ ملے

دیکھتی رہ گئی محراب حرم

دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
جب بھی اوہام مقابل آئے
مثلِ شمشیر چلی نوکِ قلم
پرِ پرواز پہ یہ راز کھلا
پستیوں سے تھا بلندی کا بھرم

Sunday, 2 August 2020

حضور آپ مرے مائی باپ ان داتا

’عید کی بھیک‘

حضور، آپ مِرے مائی باپ، ان داتا
حضور، عید کا دن روز تو نہیں آتا
حضور، آج تو نذرِ علیؑ، نیازِ رسولؐ
حضور، آپ کے گھر میں ہو رحمتوں کا نزول
حضور، آج ملے جان و مال کی خیرات
حضور، آپ کے اہل و عیال کی خیرات

پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مُرجھا کے آ گِرا ہوں مگر سرد گھاس میں
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے
سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں