ہر ایک بات ہے منت کشِ زباں لوگو
نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو
کچھ اس طرح وہ حقائق کو سن کے چونک اٹھے
بکھر گئیں سرِ محفل پہیلیاں لوگو
مِرے لبوں سے کوئی بات بھی نہیں نکلی
بہارِ نو بھی انہیں پھر سجا نہیں سکتی
بکھر گئی ہیں جو پھولوں کی پتیاں لوگو
بڑا زمانہ ہوا آشیاں کو راکھ ہوئے
مگر نگاہ ہے اب تک دھواں دھواں لوگو
خطا معاف کہ مے سے شکیب منکر ہے
اسے عزیز ہیں دنیا کی تلخیاں لوگو
شکیب جلالی
No comments:
Post a Comment