عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرکارِ مدینہ مِرے سرکارِ مدینہ
اس طرح سے جینا کوئی جینے میں ہے جینا
اے کاش! مقدر میں ہو دیدار مدینہ
مجبور ہوں، لاچار ہوں، بے بس ہوں یہی نا
سرکارِ مدینہ مِرے سرکارِ مدینہ
اے سرورِ کونینؐ، اے امت کے نگہباں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرکارِ مدینہ مِرے سرکارِ مدینہ
اس طرح سے جینا کوئی جینے میں ہے جینا
اے کاش! مقدر میں ہو دیدار مدینہ
مجبور ہوں، لاچار ہوں، بے بس ہوں یہی نا
سرکارِ مدینہ مِرے سرکارِ مدینہ
اے سرورِ کونینؐ، اے امت کے نگہباں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھے یہ مال و زر کیا تختِ دارا و سکندر کیا
شہِ بطحاؐ کا ادنیٰ اُمتی ہوں اس سے بڑھ کر کیا
عزیز از جان ہیں کانٹے بھی طیبہ کی ببولوں کے
مِرے نزدیک جنّت کی کوئی شاخ گُل تر کیا
مقامات شہِ لولاکﷺ کی رفعت کا اندازہ
لگا پائیں گے جبرئیل امیںؑ کے بازوئے پر کیا
یوں تِری یاد میں کھو گئے
ہم تھے کیا اور کیا ہو گئے
اک نئی صبح کا خواب ہم
دیکھتے دیکھتے سو گئے
شہد کی فصل سے کیا گِلہ
زہر تو آپ ہم بو گئے
زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے
وہ اپنے زخم کہاں تک بھلا شُمار کرے
کوئی بتائے کہاں تک کوئی چمن زادہ
چمن کو اپنا لہو دے کے لالہ زار کرے
وہ جس نے صدیوں بہاروں کے رنگ دیکھے ہوں
خزاں سے اپنے کو وہ کیسے ہمکنار کرے