جس روِش پہ بے دھڑک زندگی کا راج تھا
اس سڑک پہ اب کوئی سنتری بٹھا گیا
خوف کی زمین پر کون باغبان تھا
خانہ دار تار کی بیل اِک اُگا گیا
اندر دھنستی دیواروں کے پار کہیں پر
ننگی بھُوکی خلقت میں کوئی
جھُوٹ کا راشن تول رہا ہے
کچھ جھُلسے ہوئے لوگ ہیں اس شہر کا نوحہ
کیوں ان پہ گِری برقِ ستمگار نہ پُوچھو
کب پھُوٹے گی دھانی کھیتی، کب آئے گا شاخ پہ بُور
یاد میں ہے پِچھلی فصلوں کی سب رُوداد پرندے کو
خورشید حسنین
No comments:
Post a Comment