چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں
زمین و آسمانوں میں ستارے دو ہی دیکھے ہیں
جو دیکھو ڈوب کر تو پھر کنارا تیسرا بھی ہے
بظاہر تم نے دریا کے کنارے دو ہی دیکھے ہیں
بس اک تھا میرے ہاتھوں میں اور اک تھا تیرے ہاتھوں میں
تو میں نے سارے بچپن میں غبارے دو ہی دیکھے ہیں
خدا کا گھر بھی دیکھا اور اپنا دل بھی دیکھا ہے
عبادت کے لیے ہم نے تو دوارے دو ہی دیکھے ہیں
بس اک تھا ڈوبنے والا اور اک تھا تیرنے والا
محبت کے سمندر میں نظارے دو ہی دیکھے ہیں
ابھی تو آگ 🔥 کا جنگل بھی تم کو پار کرنا ہے
ابھی تم نے تو جگنو کے شرارے دو ہی دیکھے ہیں
ہمارے پیار کے قصے سنے ہیں جب بھی لوگوں نے
کہا لوگوں نے لوگوں سے کہ پیارے دو ہی دیکھے ہیں
اب ان ہاتھوں کے پیچھے بھی بہت سے ہاتھ ہیں عامر
ابھی تو ہاتھ بس تم نے ہمارے دو ہی دیکھے ہیں
حفیظ عامر
No comments:
Post a Comment