تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے
میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے
نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ
شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے
تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز
میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے
تم کہیں اپنے حسیں خوابوں کی تعبیر میں گم
میں نے جوگن سی دَشا اپنی بنا رکھی ہے
💢وہ کرن توڑ چکے ماضی سے اپنا رشتہ💢
میں نے کیوں سینے سے اک آس لگا رکھی ہے
کنیز فاطمہ کرن
No comments:
Post a Comment