Monday, 29 June 2026

تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے

تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے

میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے

نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ

شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے

تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز

میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے

تم کہیں اپنے حسیں خوابوں کی تعبیر میں گم

میں نے جوگن سی دَشا اپنی بنا رکھی ہے

💢وہ کرن توڑ چکے ماضی سے اپنا رشتہ💢

میں نے کیوں سینے سے اک آس لگا رکھی ہے


کنیز فاطمہ کرن

No comments:

Post a Comment