Showing posts with label سجنی لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label سجنی لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 22 July 2026

جو میرے پیار میں الجھا ہوا دکھائی دے

 جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے

خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے

مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے

تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے

عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی

میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے

Thursday, 21 May 2026

خیال صبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

 خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں

کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے

تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں

مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم

گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں

Thursday, 10 April 2025

ضبط دو روز بھی ان سے نہ ہوا میرے بعد

 ضبط دو روز بھی ان سے نہ ہوا میرے بعد

میں جو کہتی تھی وہی ہو کے رہا میرے بعد

اچھا کھاؤ تو قسم سر پہ میرے رکھ کر ہاتھ

میرے بچوں سے کرو گے نہ دغا میرے بعد

جو مِرے واسطے چوتھی کا بنا تھا جوڑا

وہی جوڑا مِری سوتن کو چڑھا میرے بعد

Thursday, 13 March 2025

شہر بے مہر میں ملتا کہاں دلدار کوئی

 شہر بے مہر میں ملتا کہاں دلدار کوئی

کاش مل جاتا ہمیں مجمع اغیار کوئی

چیر دے قلب زمیں توڑ دے زنجیر زماں

چھیڑ اب ایسا فسانۂ دل نادار کوئی

نالۂ دل سے جگر ہوتا ہے چھلنی یا رب

صبر کرتی ہوں تو چل جاتی ہے تلوار کوئی

Thursday, 14 January 2021

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

 طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

میرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ

وہ کہہ رہا ہے کہ لاؤں گا گھر میں سوتن کو

پلا رہا ہے وہ آبِ حیات زہر کے ساتھ

میں اس لیے یہاں آتی ہوں تم جو رہتے ہو

مجھے ہے اتنا تعلق تمہارے شہر کے ساتھ