جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے
خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے
مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے
تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے
عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی
میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے
جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے
خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے
مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے
تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے
عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی
میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے
خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں
اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں
کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے
تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں
مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم
گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں
ضبط دو روز بھی ان سے نہ ہوا میرے بعد
میں جو کہتی تھی وہی ہو کے رہا میرے بعد
اچھا کھاؤ تو قسم سر پہ میرے رکھ کر ہاتھ
میرے بچوں سے کرو گے نہ دغا میرے بعد
جو مِرے واسطے چوتھی کا بنا تھا جوڑا
وہی جوڑا مِری سوتن کو چڑھا میرے بعد
شہر بے مہر میں ملتا کہاں دلدار کوئی
کاش مل جاتا ہمیں مجمع اغیار کوئی
چیر دے قلب زمیں توڑ دے زنجیر زماں
چھیڑ اب ایسا فسانۂ دل نادار کوئی
نالۂ دل سے جگر ہوتا ہے چھلنی یا رب
صبر کرتی ہوں تو چل جاتی ہے تلوار کوئی
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
میرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ
وہ کہہ رہا ہے کہ لاؤں گا گھر میں سوتن کو
پلا رہا ہے وہ آبِ حیات زہر کے ساتھ
میں اس لیے یہاں آتی ہوں تم جو رہتے ہو
مجھے ہے اتنا تعلق تمہارے شہر کے ساتھ