Showing posts with label بشریٰ ایوب. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ ایوب. Show all posts

Tuesday, 29 March 2022

مجھے اب کسی سے محبت نہیں ہوتی

 مجھے اب کسی سے محبت  نہیں ہوتی 


میرے پاس دل بہلانے کو بہت سے لوگ ہیں

راتیں جاگنے کے لیے کئی کتابیں جمع کر رکھی ہیں 

دن میں کسی نہ کسی بات پر ہنس لیتی ہوں 

مجھے اب کسی سے شکایت نہیں ہوتی 

تم بدل گئی ہو ایسے جملے بکثرت سننے کو ملتے ہیں 

Friday, 25 February 2022

درد بھی کتنا اچھا تخلیق کار ہے نا

 درد بھی کتنا اچھا تخلیق کار ہے نا


لوگ مجھ سے میرے دکھوں کا سبب پوچھتے ہیں

وہ کہتے ہیں؛ کبھی تم جو مسکاتی ہو تو کسے سوچتی ہو؟

چہرے پر اداسی کے سائے، یہ کس خوف کی رمق ہے؟

ہنسی کا گَلا خود ہی گھونٹ دیتی ہو

تمنا مچل جائے تو چپ کا لبادہ اوڑھتی ہو

Thursday, 3 February 2022

کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو

 کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو


کل ہم نے چاند دیکھا تھا

دعا بھی مانگی تھی

اپنے ملن کی

کیسا خوبصورت چاند تھا

مکمل اور روشن

Saturday, 8 January 2022

کاش تمہیں ہی مانگا ہوتا

 کاش تمہیں ہی مانگا ہوتا


ان خلاؤں سے پار

دور محبت کی فضاؤں میں

ایفل ٹاور کے نیچے

جب برف گرتی ہے

تو محبت کرنے والے دل

Wednesday, 30 June 2021

محبت کے عشرت کدے میں تمہارے غم کو

 محبت کے عشرت کدے میں

تمہارے غم کو کسی اور نے چھُوا

اور اپنی موت آپ مر گیا

موت بھی ایسی جس کا ماتم

منانا بھی واجب نہ ہوا

محبت اپنی کوکھ میں ایسے غم چھپائے ہی رکھتی ہے

Thursday, 25 March 2021

میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا

 میں تمہاری دیکھی ہوئی اچھی دنیا میں نہیں رہتی


میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا

میں خزاں کا وہ پھول ہوں جس کی پتیوں پر بہار کبھی نہ آئی

میرے خوابوں میں تیرا ہاتھ ہمیشہ چھُوٹ گیا

میرا ادھورا پن تیرے مقابل کبھی نہ آ سکا

وہ آہ جو سینے سے نکلی تھی