مجھے اب کسی سے محبت نہیں ہوتی
میرے پاس دل بہلانے کو بہت سے لوگ ہیں
راتیں جاگنے کے لیے کئی کتابیں جمع کر رکھی ہیں
دن میں کسی نہ کسی بات پر ہنس لیتی ہوں
مجھے اب کسی سے شکایت نہیں ہوتی
تم بدل گئی ہو ایسے جملے بکثرت سننے کو ملتے ہیں
مجھے اب کسی سے محبت نہیں ہوتی
میرے پاس دل بہلانے کو بہت سے لوگ ہیں
راتیں جاگنے کے لیے کئی کتابیں جمع کر رکھی ہیں
دن میں کسی نہ کسی بات پر ہنس لیتی ہوں
مجھے اب کسی سے شکایت نہیں ہوتی
تم بدل گئی ہو ایسے جملے بکثرت سننے کو ملتے ہیں
درد بھی کتنا اچھا تخلیق کار ہے نا
لوگ مجھ سے میرے دکھوں کا سبب پوچھتے ہیں
وہ کہتے ہیں؛ کبھی تم جو مسکاتی ہو تو کسے سوچتی ہو؟
چہرے پر اداسی کے سائے، یہ کس خوف کی رمق ہے؟
ہنسی کا گَلا خود ہی گھونٹ دیتی ہو
تمنا مچل جائے تو چپ کا لبادہ اوڑھتی ہو
کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
کل ہم نے چاند دیکھا تھا
دعا بھی مانگی تھی
اپنے ملن کی
کیسا خوبصورت چاند تھا
مکمل اور روشن
کاش تمہیں ہی مانگا ہوتا
ان خلاؤں سے پار
دور محبت کی فضاؤں میں
ایفل ٹاور کے نیچے
جب برف گرتی ہے
تو محبت کرنے والے دل
محبت کے عشرت کدے میں
تمہارے غم کو کسی اور نے چھُوا
اور اپنی موت آپ مر گیا
موت بھی ایسی جس کا ماتم
منانا بھی واجب نہ ہوا
محبت اپنی کوکھ میں ایسے غم چھپائے ہی رکھتی ہے
میں تمہاری دیکھی ہوئی اچھی دنیا میں نہیں رہتی
میں وہ کالک ہوں جسے چہروں پر تھوپا گیا
میں خزاں کا وہ پھول ہوں جس کی پتیوں پر بہار کبھی نہ آئی
میرے خوابوں میں تیرا ہاتھ ہمیشہ چھُوٹ گیا
میرا ادھورا پن تیرے مقابل کبھی نہ آ سکا
وہ آہ جو سینے سے نکلی تھی