اس نے کچھ سوچ کر کہا ہو گا
ہم نے مطلب غلط لیا ہو گا
یار مجھ کو نکالو وحشت سے
یار کوئی تو راستہ ہو گا
یہ ہواؤں کا کام ہے ہی نہیں
یہ دِیا 🪔 قتل ہی ہوا ہو گا
آپ تو کربلا سے آئے ہیں
آپ کو تو خُدا مِلا ہو گا
آپ سے عشق ہو گیا ہے مجھے
آپ کے ساتھ کچھ بُرا ہو گا
آپ بھی آئے ہیں کسی کی جگہ
کل کوئی آپ کی جگہ ہو گا
نادر برار شاہ
No comments:
Post a Comment