Showing posts with label پرویز شاہدی. Show all posts
Showing posts with label پرویز شاہدی. Show all posts

Friday, 2 October 2020

منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہگزر کی بات کرو

 منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہگزر کی بات کرو

آغاز سفر سے پہلے کیوں انجام سفر کی بات کرو

ظالم نے لیا ہے شرما کر پھر گوشۂ داماں چٹکی میں

ہے وقت کہ تم بے باکی سے اب دیدۂ تر کی بات کرو

آیا ہے چمن میں موسم گل آئی ہیں ہوائیں زنداں تک

دیوار کی باتیں ہو لیں گی اس وقت تو در کی بات کرو

Sunday, 18 December 2016

یہ سنبل و نسریں میرے ہیں یہ صحن گلستاں میرا ہے

یہ سنبل و نسریں میرے ہیں یہ صحن گلستاں میرا ہے
میں عزمِ نموئے گلشن ہوں، انعامِ بہاراں میرا ہے
میں فرق بتاؤں کس کس کو احساس کی جب توفیق نہیں
کیفِ غمِ دوراں میرا ہے، لطفِ غمِ جاناں میرا ہے
اے موسمِ گل! تشویش نہ کر اربابِ خرد کی باتوں پر
یہ پنجۂ وحشت میرے ہیں ہر تارِ گریباں میرا ہے

Tuesday, 16 August 2016

دل میں مرے خیال ہے تنہا نہ آپ کا

دل میں مِرے خیال ہے تنہا نہ آپ کا
مے خانہ بنتا جاتا ہے پیمانہ آپ کا
جانا کوئی ضرور نہیں ماورائے ارض
آخر یہیں کہیں تو ہے کاشانہ آپ کا
رگ رگ میں بھرتے جاتے ہیں شعلے حیات کے
خود شمع بنتا جاتا ہے پروانہ آپ کا

حد ادب میں گردش پیمانہ کیوں رہے

حدِ ادب میں گردشِ پیمانہ کیوں رہے
دَیر و حرم کے بیچ میں میخانہ کیوں رہے
جن کو بہارِ باغ کی تھی معرفت نصیب
وہ پھول، بن کے سبزۂ بے گانہ کیوں رہے
ویرانیوں نے بڑھ کے بسا لی ہیں بستیاں
اب کوہ و دشت میں کوئی دیوانہ کیوں رہے

آ کے طوفان بلا دیکھ لے مے خانے میں

آ کے طوفانِ بلا دیکھ لے مے خانے میں
ہم سمندر کو ڈبو دیتے ہیں پیمانے میں
شان ہے موسمِ گل کی تِرے دیوانے میں
پھول ہی پھول نظر آتے ہیں ویرانے میں
رات کا رنگ اڑا جاتا ہے مے خانے میں
جیسے ہم دھوپ لیے بیٹھے ہوں پیمانے میں

نپٹیں گے دل سے معرکۂ رہ گزر کے بعد

 نپٹیں گے دل سے معرکۂ رہ گزر کے بعد

لیں گے سفر کا جائزہ ختم سفر کے بعد

اٹھنے کو ان کی بزم میں سب کی نظر اٹھی

اتنا مگر کہوں گا کہ میری نظر کے بعد

سب زور ہو رہا ہے مِری سرکشی پہ صرف

کیا ہو گا حال دار و رسن میرے سر کے بعد

Monday, 12 October 2015

موت کی تجارت کو زندگی نہیں کہتے

موت کی تجارت کو زندگی نہیں کہتے
آدمی کے دشمن کو آدمی نہیں کہتے
داغدار اجالے پر یہ سحر نہ اِترائے
برص کی سفیدی کو روشنی نہیں کہتے
کیف پا نہیں سکتے ذکرِ صبحِ روشن سے
آپ تیرگی کو بھی تیرگی نہیں کہتے

موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا

موقعِ یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا
شرط جینے کی لگادی مجھے مرنے نہ دیا
کم سے کم میں غمِ دنیا کو بھلا سکتا تھا
پر تِری یاد نے یہ کام بھی کرنے نہ دیا
اس رفاقت پہ فدا میری پریشاں حالی
اپنی زلفوں کو کبھی تُو نے سنورنے نہ دیا

دل میں مرے خیال ہے تنہا نہ آپ کا

دل میں مرے خیال ہے تنہا نہ آپ کا
مے خانہ بنتا جاتا ہے پیمانہ آپ کا
جانا کوئی ضرور نہیں ماورائے ارض
آخر یہیں کہیں تو ہے کاشانہ آپ کا
رگ رگ میں بھرتے جاتے ہیں شعلے حیات کے
خود شمع بنتا جاتا ہے پروانہ آپ کا

ساغر سفالیں کو جام جم بنایا ہے

ساغرِ سفالیں کو جامِ جم بنایا ہے
پھیل کر میرے دل نے میں کو ہم بنایا ہے
ناز ہے خلیلی کو جس نقشِ ثانی پر
گرچہ آذری ہی نے یہ حرم بنایا ہے
بت ہزار توڑے ہیں لاکھ ٹکڑے جوڑے ہیں
زندگی نے جب جا کر اک صنم بنایا ہے

جلتے رہنا کام ہے دل کا بجھ جانے سے حاصل کیا

جلتے رہنا کام ہے دل کا بجھ جانے سے حاصل کیا
اپنی آگ کے ایندھن ہیں ہم، ایندھن کا مستقبل کیا
بولو! نقوشِ پا کچھ بولو، تم تو شاید سنتے ہو
بھاگ رہی ہے راہگزر کے کان میں کہہ کر منزل کیا
ڈوبنے والے دیکھ رہے ہو تم تو کشتی کے تختے
دیکھو دیکھو غور سے دیکھو دوڑ رہا ہے ساحل کیا