منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہگزر کی بات کرو
آغاز سفر سے پہلے کیوں انجام سفر کی بات کرو
ظالم نے لیا ہے شرما کر پھر گوشۂ داماں چٹکی میں
ہے وقت کہ تم بے باکی سے اب دیدۂ تر کی بات کرو
آیا ہے چمن میں موسم گل آئی ہیں ہوائیں زنداں تک
دیوار کی باتیں ہو لیں گی اس وقت تو در کی بات کرو