شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے
مجھے فرصت نہیں آہ و فغاں سے
نہ پوچھو ماجرائے شوق ہم سے
کہیں لغزش نہ ہو جائے زباں سے
کرم ان کا ترے حال زبوں پر
مگر یہ بات باہر ہے گماں سے
بن کے پیغامِ سکوں بخش ٹھہرتی بھی نہیں
زندگی درد کی راہوں سے گزرتی بھی نہیں
دل سے جاتا بھی نہیں ان کی جدائی کا خٰال
ہائے تقدیر محبت کی سنورتی بھی نہیں
اس قدر یورشِ افکار نے گھیرا ہے مجھے
ذہن میں اب کوئی تصویر ابھرتی بھی نہیں
خون دل پینے کا قصہ اور غم کھانے کا نام
عشق ہے اے دوست مر مر کے جیے جانے کا نام
یاد آ جاتے ہیں ان کو سوختہ سامان غم
جب کوئی لیتا ہے اس محفل میں پروانے کا نام
ظرف عالی چاہیے صہبا پرستی کے لیے
کر دیا بد نام کم ظرفوں نے میخانے کا نام
دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا
زندگی کو وقف آلام جہاں رہنے دیا
مفت میں رسوا ہو کیوں خودداریٔ اہل جنوں
میں نے دل کی بات کو دل میں نہاں رہنے دیا
حرف کیوں آئے بھلا کعبہ صفت دل پر مِرے
گو بتوں کو میں نے دل کے درمیاں رہنے دیا