Showing posts with label ناصر انصاری. Show all posts
Showing posts with label ناصر انصاری. Show all posts

Monday, 7 September 2026

شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

 شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے

ہے تری یاد مونس شبِ غم

تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے

عشق محزوں کی خیر یو یا رب

آج ان کا مزاج برہم ہے

Wednesday, 18 March 2026

سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے

 سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے

مجھے فرصت نہیں آہ و فغاں سے

نہ پوچھو ماجرائے شوق ہم سے

کہیں لغزش نہ ہو جائے زباں سے

کرم ان کا ترے حال زبوں پر

مگر یہ بات باہر ہے گماں سے

Thursday, 12 June 2025

بن کے پیغامِ سکوں بخش ٹھہرتی بھی نہیں

 بن کے پیغامِ سکوں بخش ٹھہرتی بھی نہیں

زندگی درد کی راہوں سے گزرتی بھی نہیں

دل سے جاتا بھی نہیں ان کی جدائی کا خٰال

ہائے تقدیر محبت کی سنورتی بھی نہیں

اس قدر یورشِ افکار نے گھیرا ہے مجھے

ذہن میں اب کوئی تصویر ابھرتی بھی نہیں

Tuesday, 29 June 2021

خون دل پینے کا قصہ اور غم کھانے کا نام

خون دل پینے کا قصہ اور غم کھانے کا نام

عشق ہے اے دوست مر مر کے جیے جانے کا نام

یاد آ جاتے ہیں ان کو سوختہ سامان غم

جب کوئی لیتا ہے اس محفل میں پروانے کا نام

ظرف عالی چاہیے صہبا پرستی کے لیے

کر دیا بد نام کم ظرفوں نے میخانے کا نام

Tuesday, 23 March 2021

دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا

دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا

زندگی کو وقف آلام جہاں رہنے دیا

مفت میں رسوا ہو کیوں خودداریٔ اہل جنوں

میں نے دل کی بات کو دل میں نہاں رہنے دیا

حرف کیوں آئے بھلا کعبہ صفت دل پر مِرے

گو بتوں کو میں نے دل کے درمیاں رہنے دیا