Tuesday, 23 March 2021

دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا

دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا

زندگی کو وقف آلام جہاں رہنے دیا

مفت میں رسوا ہو کیوں خودداریٔ اہل جنوں

میں نے دل کی بات کو دل میں نہاں رہنے دیا

حرف کیوں آئے بھلا کعبہ صفت دل پر مِرے

گو بتوں کو میں نے دل کے درمیاں رہنے دیا

ہر نفس تازہ خلش ہے ہر قدم تازہ ستم

گردش ایام نے کب شادماں رہنے دیا

ہم نے ناموس گلستاں کے تحفظ کے لیے

بجلیوں کی زد پہ اپنا آشیاں رہنے دیا

لے اڑی ہوتی ہوائے گمرہی رسم وجود

وہ تو ہم نے سر کو زیب آستاں رہنے دیا

کر کے چشم ناز نے شاداب زخموں کے گلاب

گلشن دل میں بہاروں کو جواں رہنے دیا

ہم ہجوم غم میں ناصر مسکراتے ہی رہے

زندگی سے موت کو یوں بد گماں رہنے دیا


ناصر انصاری

No comments:

Post a Comment