عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نکالیں گے سب پیچ و خم کملی والے
سوال وجود و عدم، کملی والے
تشکر، عنایت، کرم کملی والے
مجھ ایسے کا رکھا بھرم کملی والے
تِرےؐ نام پر گزرے میری عمریا
تِرےؐ عشق میں نکلے دم کملی والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نکالیں گے سب پیچ و خم کملی والے
سوال وجود و عدم، کملی والے
تشکر، عنایت، کرم کملی والے
مجھ ایسے کا رکھا بھرم کملی والے
تِرےؐ نام پر گزرے میری عمریا
تِرےؐ عشق میں نکلے دم کملی والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سخن کی بھیک
مدینے کے شِمال میں
اُحد کی شاہراہ پر کھڑا
یہ سوچتا تھا میں
بہت حسین وقت تھا
بڑا سہانا وقت تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہاں اسی شعر کا رنگ اور جمال اچھا ہے
جس میں آ جائے مدینے کا خیال، اچھا ہے
اشک آنکھوں سے ندامت کے بہے جاتے ہیں
میرے چہرے کا یہی رنگِ ملال اچھا ہے
ایک پل چین نہیں ہجرِ مدینہ میں مجھے
کون کہتا ہے کہ بیمار کا حال اچھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ کو دکھا کے روضۂ اطہر حضورﷺ نے
چمکا دیا ہے میرا مقدر حضورﷺ نے
دُھندلا نہیں سکے گی اسے گردشِ حیات
آنکھوں میں بھر دیا ہے وہ منظر حضورﷺ نے
ہچکی سی بندھ گئی تھی مواجہ کے سامنے
دستِ تسلی رکھ دیا دل پر حضورﷺ نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لبِ حروف پہ ہے طُرفہ کپکپاہٹ سی
اُتر رہی ہے خیالوں میں سرسراہٹ سی
چٹک رہی ہیں دعاؤں کی شاخ پر کلیاں
ہر ایک شب میں شبِ قدر کی ہے آہٹ سی
شکستگی سے بچا لیجیے حضورﷺ مجھے
نگل نہ جائے کہیں مجھ کو بھربھراہٹ سی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھا ہے میں نے کام سدا ایک کام سے
آباد گھر کیا ہے درودﷺ و سلام سے
مومن کی سادہ لفظوں میں تعریف ہے یہی
ہو جاں سے بڑھ کے پیار محمدؐ کے نام سے
ممدوحِ دو جہان کی مدحت کا فیض ہے
ملتا ہے یہ جہان بڑے احترام سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اہلِ طائف نے اگرچہ انہیں مارے پتھر
مانگی آقاﷺ نے دعا چھاتی پہ رکھے پتھر
مکہ والوں نے کہا ان کو امین و صادقﷺ
ان کے اخلاق کی تاثیر سے پگھلے پتھر
ان کی گویائی کا اک ادنٰی سا اعجاز ہے یہ
اذن آقاﷺ نے دیا، ہاتھ میں بولے پتھر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغِ مدحت میں گلفشانی کی
عمر بھر ہم نے باغبانی کی
میرے ہونٹوں نے چوما ان کانام
میری سانسوں نے نعت خوانی کی
نامِ احمدﷺ سے رکھا بس مطلب
یوں بسر اپنی زندگانی کی