Showing posts with label رئیس نیازی. Show all posts
Showing posts with label رئیس نیازی. Show all posts

Saturday, 8 April 2023

تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو

 تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو

وفورِ شوق نے کوئی مقام پایا تو؟

قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے

اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو؟

ہم اپنی تابِ نظر سے بہت پشیماں ہیں

پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو؟

Saturday, 2 April 2022

اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے

 اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے

ہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہے

خود کو تاریخ کسی وقت جو دہراتی ہے

میرے حالات پہ دنیا کو ہنسا جاتی ہے

یادِ ایامِ بہاراں بھی نہیں وجہِ سکوں

اب تو تزئینِ قفس ہی مجھے بہلاتی ہے

Saturday, 1 May 2021

سب کو وحشت ہے مری وحشت کے ساماں دیکھ کر

 سب کو وحشت ہے مِری وحشت کے ساماں دیکھ کر

چاک داماں دیکھ کر، چاکِ گریباں دیکھ کر

بے خبر کانٹوں سے تھا اہلِ محبت کا شعور

پاؤں رکھنے تھے زمینِ کوئے جاناں دیکھ کر

اللہ، اللہ، جذبۂ الفت کی معجز کاریاں

وہ پریشاں ہو گئے مجھ کو پریشاں دیکھ کر

Monday, 26 April 2021

وہ بہت دور بھی ہیں پاس بھی ہیں

 وہ بہت دور بھی ہیں پاس بھی ہیں

ہم شگفتہ بھی ہیں، اداس بھی ہیں

اصلِ جلوہ نظر فریبی ہے

ان کے جلوے نظر شناس بھی ہیں

وہی حالات جن سے عاجز تھے

وہی حالات آج راس بھی ہیں

Tuesday, 13 April 2021

نفس نفس میں ہے پیغام معتبر کس کا

 نفس نفس میں ہے پیغام معتبر کس کا

سکوں نصیب ہے جلوہ نظر نظر کس کا

ملال کس لیے حالاتِ نا مساعد کا

دیا ہے ساتھ مقدر نے عمر بھر کس کا

ہم اپنی راہ کے بس آخری مسافر ہیں

ہماری راہ سے ہونا ہے اب گزر کس کا

Saturday, 10 April 2021

غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے

 غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے

حیف اس آنکھ پر جو پُر نم ہے

دل کی آواز لاکھ مدھم ہے

دل کی آواز میں بڑا دم ہے

زندگی میں سکون کے طالب

زندگی خود ہی مستقل غم ہے

یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہت

 یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غمگسار بہت

بنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہت

جو چشم یار ہے ہوش و خرد شکار بہت

دل و نظر پہ ہمیں بھی ہے اختیار بہت

ہم اپنے وقت کی تصویر مسخ صورت ہیں

دکھائے ہم کو نہ آئینہ روزگار بہت

Thursday, 1 April 2021

ہر آئنے نے کہا رخصت غبار کے بعد

 ہر آئینے نے کہا رُخصتِ غبار کے بعد

یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمالِ یار کے بعد

زمانہ زیرِ نگیں تھا رضائے یار کے بعد

وہ اختیار مِلا ترکِ اختیار کے بعد

یہ مانتا ہوں ادب شرطِ عشق ہے لیکن

یہ ہوش کس کو رہے گا نگاہِ یار کے بعد