تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو
وفورِ شوق نے کوئی مقام پایا تو؟
قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے
اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو؟
ہم اپنی تابِ نظر سے بہت پشیماں ہیں
پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو؟
تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو
وفورِ شوق نے کوئی مقام پایا تو؟
قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے
اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو؟
ہم اپنی تابِ نظر سے بہت پشیماں ہیں
پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو؟
اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے
ہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہے
خود کو تاریخ کسی وقت جو دہراتی ہے
میرے حالات پہ دنیا کو ہنسا جاتی ہے
یادِ ایامِ بہاراں بھی نہیں وجہِ سکوں
اب تو تزئینِ قفس ہی مجھے بہلاتی ہے
سب کو وحشت ہے مِری وحشت کے ساماں دیکھ کر
چاک داماں دیکھ کر، چاکِ گریباں دیکھ کر
بے خبر کانٹوں سے تھا اہلِ محبت کا شعور
پاؤں رکھنے تھے زمینِ کوئے جاناں دیکھ کر
اللہ، اللہ، جذبۂ الفت کی معجز کاریاں
وہ پریشاں ہو گئے مجھ کو پریشاں دیکھ کر
وہ بہت دور بھی ہیں پاس بھی ہیں
ہم شگفتہ بھی ہیں، اداس بھی ہیں
اصلِ جلوہ نظر فریبی ہے
ان کے جلوے نظر شناس بھی ہیں
وہی حالات جن سے عاجز تھے
وہی حالات آج راس بھی ہیں
نفس نفس میں ہے پیغام معتبر کس کا
سکوں نصیب ہے جلوہ نظر نظر کس کا
ملال کس لیے حالاتِ نا مساعد کا
دیا ہے ساتھ مقدر نے عمر بھر کس کا
ہم اپنی راہ کے بس آخری مسافر ہیں
ہماری راہ سے ہونا ہے اب گزر کس کا
غم جب ان کا دیا ہوا غم ہے
حیف اس آنکھ پر جو پُر نم ہے
دل کی آواز لاکھ مدھم ہے
دل کی آواز میں بڑا دم ہے
زندگی میں سکون کے طالب
زندگی خود ہی مستقل غم ہے
یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غمگسار بہت
بنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہت
جو چشم یار ہے ہوش و خرد شکار بہت
دل و نظر پہ ہمیں بھی ہے اختیار بہت
ہم اپنے وقت کی تصویر مسخ صورت ہیں
دکھائے ہم کو نہ آئینہ روزگار بہت
ہر آئینے نے کہا رُخصتِ غبار کے بعد
یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمالِ یار کے بعد
زمانہ زیرِ نگیں تھا رضائے یار کے بعد
وہ اختیار مِلا ترکِ اختیار کے بعد
یہ مانتا ہوں ادب شرطِ عشق ہے لیکن
یہ ہوش کس کو رہے گا نگاہِ یار کے بعد