یہ نہ سوچیں کہ کیا دیجئے
ہاتھ اٹھا کر دعا دیجئے
آتشِ دل بجھا دیجئے
یا پھر اس کو ہوا دیجیئے
مجھ کو کشتی عطا کی تو پھر
ساتھ اک ناخدا دیجئے
یہ نہ سوچیں کہ کیا دیجئے
ہاتھ اٹھا کر دعا دیجئے
آتشِ دل بجھا دیجئے
یا پھر اس کو ہوا دیجیئے
مجھ کو کشتی عطا کی تو پھر
ساتھ اک ناخدا دیجئے
پل بھر کو میرے خواب میں آ کر چلا گیا
اک شخص میری نیند اڑا کر چلا گیا
ممکن ہے واپسی نہ تو آگے ہے راستہ
تُو مجھ کو کیسے موڑ پہ لا کر چلا گیا
نفرت سی ہو گئی ہے مجھے اپنی شکل سے
آئینہ کوئی ایسے دکھا کر چلا گیا
جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے
تو ایسے کے سنگ کوئی چلتا نہیں ہے
میں دستک تو ہر روز دیتا ہوں، لیکن
یہ دروازہ قسمت کا کھلتا نہیں ہے
ترستی تھی آنکھیں تمہیں دیکھ نے کو
مگر دیکھ کر دل مچلتا نہیں ہے
سامنے آئی ہے پھر سے تیری صورت آج بھی
مجھ پہ برپا ہو گئی پھر سے قیامت آج بھی
وہ مِرے دل کی عدالت میں ہے اب بھی بے گناہ
کر رہا ہوں اپنے مجرم کی وکالت آج بھی
زندگی میں کوئی ہو جو زخم دے اور درد دے
در حقیقت ہے مجھے تیری ضرورت آج بھی
موت تو ہر کسی کو آنی ہے
دور دورہ ہے یاں خزاؤں کا
ہائے یہ کس کی باغبانی ہے
کچھ کمائی نہ کی گئی جس میں
وہ فقط نام کی جوانی ہے
یہ جو آنسو ہیں میری آنکھوں میں
اک شخص دل میں رہ کے بھی دلبر نہ بن سکا
مئے جس میں پیار کی ہو وہ ساغر نہ بن سکا
پھر یوں ہوا کہ عشق کی بازی پلٹ گئی
جب میں مِرے رقیب سے بہتر نہ بن سکا
پیوست ہو جگر میں جو مثلِ نگاہِ یار
ایسا تو آج تک کوئی خنجر نہ بن سکا