Showing posts with label یاسین باوزیر. Show all posts
Showing posts with label یاسین باوزیر. Show all posts

Monday, 11 April 2022

یہ نہ سوچیں کہ کیا دیجئے ہاتھ اٹھا کر دعا دیجئے

 یہ نہ سوچیں کہ کیا دیجئے

ہاتھ اٹھا کر دعا دیجئے

آتشِ دل بجھا دیجئے

یا پھر اس کو ہوا دیجیئے

مجھ کو کشتی عطا کی تو پھر

ساتھ اک ناخدا دیجئے

Sunday, 9 January 2022

پل بھر کو میرے خواب میں آ کر چلا گیا

 پل بھر کو میرے خواب میں آ کر چلا گیا

اک شخص میری نیند اڑا کر چلا گیا

ممکن ہے واپسی نہ تو آگے ہے راستہ

تُو مجھ کو کیسے موڑ پہ لا کر چلا گیا

نفرت سی ہو گئی ہے مجھے اپنی شکل سے

آئینہ کوئی ایسے دکھا کر چلا گیا

Friday, 7 January 2022

جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے

 جو گرتا ہے لیکن سنبھلتا نہیں ہے

تو ایسے کے سنگ کوئی چلتا نہیں ہے 

میں دستک تو ہر روز دیتا ہوں، لیکن 

یہ دروازہ قسمت کا کھلتا نہیں ہے 

ترستی تھی آنکھیں تمہیں دیکھ نے کو 

مگر دیکھ کر دل مچلتا نہیں ہے  

Wednesday, 15 December 2021

سامنے آئی ہے پھر سے تیری صورت آج بھی

 سامنے آئی ہے پھر سے تیری صورت آج بھی

مجھ پہ برپا ہو گئی پھر سے قیامت آج بھی

وہ مِرے دل کی عدالت میں ہے اب بھی بے گناہ

کر رہا ہوں اپنے مجرم کی وکالت آج بھی

زندگی میں کوئی ہو جو زخم دے اور درد دے

در حقیقت ہے مجھے تیری ضرورت آج بھی

Tuesday, 14 December 2021

موت تو ہر کسی کو آنی ہے

 موت تو ہر کسی کو آنی ہے

دور دورہ ہے یاں خزاؤں کا

ہائے یہ کس کی باغبانی ہے

کچھ کمائی نہ کی گئی جس میں

وہ فقط نام کی جوانی ہے

یہ جو آنسو ہیں میری آنکھوں میں

Sunday, 12 December 2021

اک شخص دل میں رہ کے بھی دلبر نہ بن سکا

 اک شخص دل میں رہ کے بھی دلبر نہ بن سکا

مئے جس میں پیار کی ہو وہ ساغر نہ بن سکا

پھر یوں ہوا کہ عشق کی بازی پلٹ گئی

جب میں مِرے رقیب سے بہتر نہ بن سکا

پیوست ہو جگر میں جو مثلِ نگاہِ یار

ایسا تو آج تک کوئی خنجر نہ بن سکا