موت تو ہر کسی کو آنی ہے
دور دورہ ہے یاں خزاؤں کا
ہائے یہ کس کی باغبانی ہے
کچھ کمائی نہ کی گئی جس میں
وہ فقط نام کی جوانی ہے
یہ جو آنسو ہیں میری آنکھوں میں
آپ کے پیار کی نشانی ہے
مسکرانا تو ہم نے ہے سیکھا
دل کی حالت وہی پرانی ہے
خوں بہاتے ہیں خون کے پیاسے
آج کل خون بہتا پانی ہے
ان کی تصویر پاس ہو تو پھر
ہجر کی رات بھی سہانی ہے
تذکرہ آپ کا نہیں ہو گا
عشق کی آبرو بچانی ہے
لیجیۓ جان ہے میری حاضر
کام لیجے جو کام آنی ہے
وہ ہیں محفل سے دور اے یاسین
جن کو میری غزل سنانی ہے
یاسین باوزیر
No comments:
Post a Comment