Tuesday, 14 December 2021

موت تو ہر کسی کو آنی ہے

 موت تو ہر کسی کو آنی ہے

دور دورہ ہے یاں خزاؤں کا

ہائے یہ کس کی باغبانی ہے

کچھ کمائی نہ کی گئی جس میں

وہ فقط نام کی جوانی ہے

یہ جو آنسو ہیں میری آنکھوں میں

آپ کے پیار کی نشانی ہے

مسکرانا تو ہم نے ہے سیکھا

دل کی حالت وہی پرانی ہے

خوں بہاتے ہیں خون کے پیاسے

آج کل خون بہتا پانی ہے

ان کی تصویر پاس ہو تو پھر

ہجر کی رات بھی سہانی ہے

تذکرہ آپ کا نہیں ہو گا

عشق کی آبرو بچانی ہے

لیجیۓ جان ہے میری حاضر

کام لیجے جو کام آنی ہے

وہ ہیں محفل سے دور اے یاسین

جن کو میری غزل سنانی ہے


یاسین باوزیر

No comments:

Post a Comment