دور سب رنج اور ملال کروں
اِس جُدائی کو اب وِصال کروں
میں نے سوچا ہے تجھ کو جانِ غزل
اپنے شعروں میں بے مثال کروں
ہجر کی شدتیں پگھل جائیں
تجھ کو جب بھی لکھوں کمال کروں
دور سب رنج اور ملال کروں
اِس جُدائی کو اب وِصال کروں
میں نے سوچا ہے تجھ کو جانِ غزل
اپنے شعروں میں بے مثال کروں
ہجر کی شدتیں پگھل جائیں
تجھ کو جب بھی لکھوں کمال کروں
ہوں کروٹوں میں کبھی اور بند آنکھوں میں
میں اب تلک ہوں تِرے خواب کے جزیروں میں
نہ کوئی صبح ہے میری نہ کوئی شام مِری
ہر ایک پَل ہے تِرے خوشنما خیالوں میں
یہ انتہا ہے کہ تجھ پہ یقین ہے مجھ کو
میں تیری بات کو لکھتی ہوں اپنے لفظوں میں
میں نے چاہت کو بے بہا رکھا
نام تیرا ہی انتہا رکھا
ذکر جب بھی ہوا تمہارا کبھی
میں نے لفظوں سے رابطہ رکھا
دوریاں الفتوں میں آئیں تو
کس نے پھر کس سے واسطہ رکھا
دل کی دہلیز تلک خود کو رسائی دے گا
مرا لہجہ مرے شعروں میں سنائی دے گا
میرا ہونا ہے ہوا جس کی بدولت ممکن
اب وہ چہرہ مری آنکھوں میں دکھائی دے گا
میں نے آنکھوں سے تجھے دور کیا تھا لیکن
یہ نہ سوچا تھا خدا ایسی جدائی دے گا
اور زرخیز کرے گا یہ مرے لفظوں کو
ہر فرد کہانی میں فسانے کے لیے ہے
ہر چیز زمانے میں سکھانے کے لیے ہے
ممکن تھا کہاں رہتا ادھورا سا یہ جذبہ
یہ درد مرا درد بڑھانے کے لیے ہے
اے دل! ترے آئینے میں رہتی ہے ہنسی جو
وہ صرف زمانے کو دِکھانے کے لیے ہے
تصورِِ کہکشاں ہوتا نہیں ہے
تُو اب مجھ سے بیاں ہوتا نہیں ہے
تڑپ میری جبیں کی بڑھ گئی ہے
مگر، تُو آستاں ہوتا نہیں ہے
مِری قسمت میں ہے جلتا ستارہ
بکھر کے جو دھواں ہوتا نہیں ہے
سوچ کے دائروں میں رہتا ہے
وہ میرے حافظوں میں رہتا ہے
یہ جو تارہ ہے میری چاہت کا
ہر گھڑی گردشوں میں رہتا ہے
لفظ میرا بنا کے چاند اسے
اس کے ہی زاویوں میں رہتا ہے
ضبطِ غم آج یوں کِیا جائے
آؤ، تھوڑا سا ہنس لیا جائے
وقت نے فیصلہ سنایا ہے
ایک دُوجے کے بِن جیا جائے
دل کے زخموں کی بات ہے ہی نہیں
روح زخمی ہے کیا کیا جائے؟