Thursday, 7 January 2021

میں نے چاہت کو بے بہا رکھا

 میں نے چاہت کو بے بہا رکھا

نام تیرا ہی انتہا رکھا

ذکر جب بھی ہوا تمہارا کبھی

میں نے لفظوں سے رابطہ رکھا

دوریاں الفتوں میں آئیں تو

کس نے پھر کس سے واسطہ رکھا

حیرتیں ہیں کہ تم نے یہ کیسا

نام آنکھوں کا سوچنا رکھا

یوں تو قسمت نے ہم کو ملوایا

ہاں مگر ایک دائرہ رکھا

بند آنکھوں سے چاند کو دیکھا

کس قدر ہم نے فاصلہ رکھا

ہو کے تم سے جدا مرے دل نے

کیا کہوں کتنا حوصلہ رکھا


منزہ سحر

No comments:

Post a Comment