میں نے چاہت کو بے بہا رکھا
نام تیرا ہی انتہا رکھا
ذکر جب بھی ہوا تمہارا کبھی
میں نے لفظوں سے رابطہ رکھا
دوریاں الفتوں میں آئیں تو
کس نے پھر کس سے واسطہ رکھا
حیرتیں ہیں کہ تم نے یہ کیسا
نام آنکھوں کا سوچنا رکھا
یوں تو قسمت نے ہم کو ملوایا
ہاں مگر ایک دائرہ رکھا
بند آنکھوں سے چاند کو دیکھا
کس قدر ہم نے فاصلہ رکھا
ہو کے تم سے جدا مرے دل نے
کیا کہوں کتنا حوصلہ رکھا
منزہ سحر
No comments:
Post a Comment