عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھری ہو جس میں شفاعت نوازئیے ہم کو
اک ایسا کاسۂ رحمت نوازئیے ہم کو
خدا نے شہرِ مدینہ میں نوکری دے دی
دعائیں کی تھیں کہ شاہت نوازئیے ہم کو
ہر ایک سمت مدینہ دکھائی دیتا رہے
نظر کی ایسی سعادت نوازئیے ہم کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھری ہو جس میں شفاعت نوازئیے ہم کو
اک ایسا کاسۂ رحمت نوازئیے ہم کو
خدا نے شہرِ مدینہ میں نوکری دے دی
دعائیں کی تھیں کہ شاہت نوازئیے ہم کو
ہر ایک سمت مدینہ دکھائی دیتا رہے
نظر کی ایسی سعادت نوازئیے ہم کو
اب اس لیے بھی دشت میں آتا نہیں کوئی
ٹوٹے دلوں کا سوگ مناتا نہیں کوئی
ہر دن تِری گلی کا پتہ پوچھتا ہوں میں
ہر دن میں پوچھتا ہوں بتاتا نہیں کوئی
دل بھی شکستہ قبر پہ رکھے دِیے سا ہے
اک بار بُجھ گیا تو جلاتا نہیں کوئی
اک خوشی باعثِ تاخیر پڑی رہتی ہے
جیسے بنجر کوئی جاگیر پڑی رہتی ہے
اول اول تِری پائل کی چھنک ہوتی تھی
اب جہاں درد کی زنجیر پڑی رہتی ہے
میرے کمرے میں خدا رہتا ہے، میں رہتا ہوں
تیسری آپ کی تصویر پڑی رہتی ہے
رات بھر گردشِ افلاک کو تکتے رہنا
یار کے نام کی تسبیح کو جپتے رہنا
ایک درویش نے بولا تھا یہ غم ٹھیک نہیں
ایک لیلیٰ نے دعا دی تھی، تڑپتے رہنا
میں کہ اس شخص کے صدقے کا دیا ہوں مولا
اور مِرا عشق ہے محراب میں جلتے رہنا
نوکِ سِناں پہ عشق ادا کر رہا تھا میں
دشتِ بُتاں میں حمد و ثنا کر رہا تھا میں
نازل ہوئی ہے مجھ پہ قیامت ابھی ابھی
اک شخص تھا کہ جس کو خدا کر رہا تھا میں
نادم ہوں، اے عظیم خدا! مجھ کو بخش دے
اب تک تِری نماز قضا کر رہا تھا میں
نکال اب کوئی سورج دکان سے اپنی
پھسل گیا ہے تِرا کُن، زبان سے اپنی
خزاں ہے مدِ مقابل سو جنگ یوں کیجے
کہ اب تو پھول ہی نکلیں میان سے اپنی
ندی کے سارے پرندوں پہ خوف طاری ہوا
یہ کس نے تیر نکالا کمان سے اپنی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ایک سے ایک کو مانگنا ہوتا ہے سو ہم دیوانوں کا
ہر لمحہ بس ایک ہی نام کی مالا جپنا بنتا ہے
تم کو کھو دینے سے ہم ایسوں کا مرنا بنتا ہے
داؤد سید
بندگی خواب میں سمٹ جائے
شاہ زادی گلے لپٹ جائے
درد ایسا کہ اک دھماکہ ہو
اور سارا وجود پھٹ جائے
ایک ہچکی سنائی دے تم کو
پھر اچانک ہی کال کٹ جائے
دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا
حق ہے محبتوں کا خدا بولنے لگا
پہلے پہل وہ خاک رہا اور چپ رہا
پھر خاک کی زباں سے خدا بولنے لگا
بجھنے لگا تھا عشق ہوا اور یوں ہوا
بہتی ہوا میں جلتا دِیا بولنے لگا
میں خود کو کھونے کے وسوسوں سے ڈرا ہُوا ہوں
بڑی دعاؤں کے بعد خود کو عطا ہوا ہوں
ہمیں پتا ہے یہ دن ہے قُربت کا آخری دن
وہ رو رہی ہے میں اس کے سینے لگا ہوا ہوں
میاں! اداسی سے میری بچپن کی دوستی ہے
میں اس کے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر بڑا ہوا ہوں
سنو ستم گر فقیر ہوں میں نہ یوں ستاؤ دعا کروں گا
ستم کرو گے تو کیا ملے گا؟ گلے لگاؤ دعا کروں گا
فلک کو دیکھا تو سب دھواں ہے، زمیں کو دیکھا تو خاکِ پائی
یہ ابنِِ آدم کا دورِ فانی ہے، مسکراؤ دعا کروں گا
سبھی طبیبوں کے پاس گویا اب ان مسائل کا حل نہیں ہے
یہ سب مسائل نہیں رہیں گے، قریب آؤ، دعا کروں گا
میں نے جان جس پہ نثار کی، مِرا دل دکھا کے چلا گیا
میں نے یاد اس کی سمیٹ لی، وہ مجھے بھلا کے چلا گیا
میں تھا اک سلگتا ہوا بدن، مجھے یاد ہے کہ مِرا صنم
مِرے پاس آیا چھوا مجھے، مجھے گل بنا کے چلا گیا
نہ اسے تھیں مجھ سے محبتیں، نہ میں اس کے دل کے قریب تھا
مجھے قتل کرنے کی آس تھی، سو گلے لگا کے چلا گیا
میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں
راہزن تھا کہ بادشہ تھا میں
مجھ کو رستوں نے بھی دعا دی تھی
تیری جانب کہ جب چلا تھا میں
ایک سجدہ بدل گیا مجھ کو
اس سے پہلے بہت برا تھا میں
سب کھیل فقط وقت بِتانے کے لیے تھا
یعنی مِرا دل صرف دُکھانے کے لیے تھا
پھولوں سے اسے خود ہی سجایا تھا ہمی نے
جو رستہ ہمیں چھوڑ کے جانے کے لیے تھا
لڑنا تو اکیلے ہی تھا، مرنا بھی اکیلے
اور یار تو بس سوگ منانے کے لیے تھا
وجود وجد مناتا تھا، 💓دل تڑپتا تھا
میں رقص میں سے اذیت کشید کرتا تھا
وہ ایک پھول مدینے کا پھول تھا لوگو
اس ایک پھول سے سارا جہاں مہکتا تھا
پھر ایسا کیا کہ تجھے توڑنا پڑا دل کو
ترا تو ایسے کھلونوں سے من بہلتا تھا
مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی
اور زندگی وجود کے باہر کھڑی رہی
لکھا تھا اک کتاب میں ہر مسئلے کا حل
اور آخری سطور میں لکھا تھا خودکشی
کاٹیں گے کیسے عہدِ جدائی کسے خبر
ہم، جن سے ایک رات گزاری نہیں گئی