Showing posts with label داؤد سید. Show all posts
Showing posts with label داؤد سید. Show all posts

Wednesday, 31 July 2024

بھری ہو جس میں شفاعت نوازئیے ہم کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بھری ہو جس میں شفاعت نوازئیے ہم کو

اک ایسا کاسۂ رحمت نوازئیے ہم کو

خدا نے شہرِ مدینہ میں نوکری دے دی

دعائیں کی تھیں کہ شاہت نوازئیے ہم کو

ہر ایک سمت مدینہ دکھائی دیتا رہے

نظر کی ایسی سعادت نوازئیے ہم کو

Thursday, 13 April 2023

اب اس لیے بھی دشت میں آتا نہیں کوئی

 اب اس لیے بھی دشت میں آتا نہیں کوئی

ٹوٹے دلوں کا سوگ مناتا نہیں کوئی

ہر دن تِری گلی کا پتہ پوچھتا ہوں میں

ہر دن میں پوچھتا ہوں بتاتا نہیں کوئی

دل بھی شکستہ قبر پہ رکھے دِیے سا ہے

اک بار بُجھ گیا تو جلاتا نہیں کوئی

Friday, 3 March 2023

اک خوشی باعث تاخیر پڑی رہتی ہے

 اک خوشی باعثِ تاخیر پڑی رہتی ہے

جیسے بنجر کوئی جاگیر پڑی رہتی ہے

اول اول تِری پائل کی چھنک ہوتی تھی

اب جہاں درد کی زنجیر پڑی رہتی ہے

میرے کمرے میں خدا رہتا ہے، میں رہتا ہوں

تیسری آپ کی تصویر پڑی رہتی ہے

Tuesday, 3 January 2023

رات بھر گردشِ افلاک کو تکتے رہنا

 رات بھر گردشِ افلاک کو تکتے رہنا

یار کے نام کی تسبیح کو جپتے رہنا

ایک درویش نے بولا تھا یہ غم ٹھیک نہیں

ایک لیلیٰ نے دعا دی تھی، تڑپتے رہنا

میں کہ اس شخص کے صدقے کا دیا ہوں مولا

اور مِرا عشق ہے محراب میں جلتے رہنا

Monday, 26 December 2022

نوک سناں پہ عشق ادا کر رہا تھا میں

 نوکِ سِناں پہ عشق ادا کر رہا تھا میں

دشتِ بُتاں میں حمد و ثنا کر رہا تھا میں

نازل ہوئی ہے مجھ پہ قیامت ابھی ابھی

اک شخص تھا کہ جس کو خدا کر رہا تھا میں

نادم ہوں، اے عظیم خدا! مجھ کو بخش دے

اب تک تِری نماز قضا کر رہا تھا میں

Tuesday, 1 November 2022

نکال اب کوئی سورج دکان سے اپنی

 نکال اب کوئی سورج دکان سے اپنی

پھسل گیا ہے تِرا کُن، زبان سے اپنی

خزاں ہے مدِ مقابل سو جنگ یوں کیجے

کہ اب تو پھول ہی نکلیں میان سے اپنی

ندی کے سارے پرندوں پہ خوف طاری ہوا

یہ کس نے تیر نکالا کمان سے اپنی

Thursday, 6 October 2022

ایک سے ایک کو مانگنا ہوتا ہے سو ہم دیوانوں کا

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


ایک سے ایک کو مانگنا ہوتا ہے سو ہم دیوانوں کا

ہر لمحہ بس ایک ہی نام کی مالا جپنا بنتا ہے

تم کو کھو دینے سے ہم ایسوں کا مرنا بنتا ہے


داؤد سید

Sunday, 13 March 2022

بندگی خواب میں سمٹ جائے

 بندگی خواب میں سمٹ جائے

شاہ زادی گلے لپٹ جائے

درد ایسا کہ اک دھماکہ ہو

اور سارا وجود پھٹ جائے

ایک ہچکی سنائی دے تم کو

پھر اچانک ہی کال کٹ جائے

Sunday, 17 October 2021

دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا

 دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا

حق ہے محبتوں کا خدا بولنے لگا

پہلے پہل وہ خاک رہا اور چپ رہا

پھر خاک کی زباں سے خدا بولنے لگا

بجھنے لگا تھا عشق ہوا اور یوں ہوا

بہتی ہوا میں جلتا دِیا بولنے لگا

Sunday, 10 October 2021

میں خود کو کھونے کے وسوسوں سے ڈرا ہوا ہوں

 میں خود کو کھونے کے وسوسوں سے ڈرا ہُوا ہوں

بڑی دعاؤں کے بعد خود کو عطا ہوا ہوں

ہمیں پتا ہے یہ دن ہے قُربت کا آخری دن

وہ رو رہی ہے میں اس کے سینے لگا ہوا ہوں

میاں! اداسی سے میری بچپن کی دوستی ہے

میں اس کے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر بڑا ہوا ہوں

Tuesday, 12 January 2021

سنو ستمگر فقیر ہوں میں نہ یوں ستاؤ دعا کروں گا

 سنو ستم گر فقیر ہوں میں نہ یوں ستاؤ دعا کروں گا

ستم کرو گے تو کیا ملے گا؟ گلے لگاؤ دعا کروں گا

فلک کو دیکھا تو سب دھواں ہے، زمیں کو دیکھا تو خاکِ پائی

یہ ابنِِ آدم کا دورِ فانی ہے، مسکراؤ دعا کروں گا

سبھی طبیبوں کے پاس گویا اب ان مسائل کا حل نہیں ہے

یہ سب مسائل نہیں رہیں گے، قریب آؤ، دعا کروں گا

Sunday, 10 January 2021

میں نے جان جس پہ نثار کی مرا دل دکھا کے چلا گیا

 میں نے جان جس پہ نثار کی، مِرا دل دکھا کے چلا گیا

میں نے یاد اس کی سمیٹ لی، وہ مجھے بھلا کے چلا گیا

میں تھا اک سلگتا ہوا بدن، مجھے یاد ہے کہ مِرا صنم

مِرے پاس آیا چھوا مجھے، مجھے گل بنا کے چلا گیا

نہ اسے تھیں مجھ سے محبتیں، نہ میں اس کے دل کے قریب تھا

مجھے قتل کرنے کی آس تھی، سو گلے لگا کے چلا گیا

Tuesday, 5 January 2021

میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں

 میں نہیں جانتا کہ کیا تھا میں

راہزن تھا کہ بادشہ تھا میں

مجھ کو رستوں نے بھی دعا دی تھی

تیری جانب کہ جب چلا تھا میں

ایک سجدہ بدل گیا مجھ کو

اس سے پہلے بہت برا تھا میں

Monday, 4 January 2021

سب کھیل فقط وقت بتانے کے لیے تھا

 سب کھیل فقط وقت بِتانے کے لیے تھا

یعنی مِرا دل صرف دُکھانے کے لیے تھا

پھولوں سے اسے خود ہی سجایا تھا ہمی نے

جو رستہ ہمیں چھوڑ کے جانے کے لیے تھا

لڑنا تو اکیلے ہی تھا، مرنا بھی اکیلے

اور یار تو بس سوگ منانے کے لیے تھا

Sunday, 13 December 2020

وجود وجد مناتا تھا دل تڑپتا تھا

 وجود وجد مناتا تھا، 💓دل تڑپتا تھا

میں رقص میں سے اذیت کشید کرتا تھا

وہ ایک پھول مدینے کا پھول تھا لوگو

اس ایک پھول سے سارا جہاں مہکتا تھا

پھر ایسا کیا کہ تجھے توڑنا پڑا دل کو

ترا تو ایسے کھلونوں سے من بہلتا تھا

Friday, 11 December 2020

مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی

 مجھ کو ترے ملال سے فرصت نہیں ملی

اور زندگی وجود کے باہر کھڑی رہی

لکھا تھا اک کتاب میں ہر مسئلے کا حل

اور آخری سطور میں لکھا تھا خودکشی

کاٹیں گے کیسے عہدِ جدائی کسے خبر

ہم، جن سے ایک رات گزاری نہیں گئی