دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا
حق ہے محبتوں کا خدا بولنے لگا
پہلے پہل وہ خاک رہا اور چپ رہا
پھر خاک کی زباں سے خدا بولنے لگا
بجھنے لگا تھا عشق ہوا اور یوں ہوا
بہتی ہوا میں جلتا دِیا بولنے لگا
دنیا تمام چپ تھی مگر اک فقیر نے
کاغذ پہ رب کا نام لکھا، بولنے لگا
رستہ نہیں تھا یاد مگر جونہی اک قدم
آگے چلا تو خود ہی پتا، بولنے لگا
مٹی تھا بے زبان تھا ماں نے چھوا مجھے
میں دل بنا دھڑکنے لگا، بولنے لگا
اے بنتِ عشق و خاک کوئی حل بتا ذرا
سید فریبِ دل کو خدا، بولنے لگا
داؤد سید
No comments:
Post a Comment