Sunday, 17 October 2021

دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا

 دل نے خوشی سے رقص کیا بولنے لگا

حق ہے محبتوں کا خدا بولنے لگا

پہلے پہل وہ خاک رہا اور چپ رہا

پھر خاک کی زباں سے خدا بولنے لگا

بجھنے لگا تھا عشق ہوا اور یوں ہوا

بہتی ہوا میں جلتا دِیا بولنے لگا

دنیا تمام چپ تھی مگر اک فقیر نے

کاغذ پہ رب کا نام لکھا، بولنے لگا

رستہ نہیں تھا یاد مگر جونہی اک قدم

آگے چلا تو خود ہی پتا، بولنے لگا

مٹی تھا بے زبان تھا ماں نے چھوا مجھے

میں دل بنا دھڑکنے لگا، بولنے لگا

اے بنتِ عشق و خاک کوئی حل بتا ذرا

سید فریبِ دل کو خدا، بولنے لگا


داؤد سید

No comments:

Post a Comment