Sunday, 17 October 2021

جب تلک جوش جنوں عشق پہ حاوی نہ ہوا

 جب تلک جوش جنوں عشق پہ حاوی نہ ہوا

کوئی بھی کام محبت میں مثالی نہ ہوا

مشورہ ترکِ تعلق کا دیا تھا اس نے

میں تو راضی تھا، مگر دل مِرا راضی نہ ہوا

فیصلے میں‌ بھی کیا کرتا اسی کے حق میں

وہ تو اچھا ہوا، اس دور کا قاضی نہ ہوا

کیسے ہوتی مجھے محمود کی شفقت حاصل

جب کوئی حسنِ عمل میرا ایازی نہ ہوا

جام پیتا ہی رہا اس کی نظر سے میں بھی

رنگ جب تک مِری آنکھوں کا گلابی نہ ہوا

منحصر غالب و اقبال پہ کیا، اہلِ سخن

آج تک پیدا کوئی دوسرا حالی نہ ہوا

کاش میں ہوتا شہیدوں کی صفوں‌ میں شامل

اب تو یہ غم بھی ستاتا ہے کہ غازی نہ ہوا​


متین امروہوی

No comments:

Post a Comment