ہمِیں سرحدوں میں ہیں اُلجھے ہوئے، پر
ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے
وہ باغِ اِرم کی مہک ساتھ لے کر
مدینے کی گلیوں میں پھیلے کی جس دم
یقیناً مِری حسرتیں، آرزوئیں
گِرہ باندھ کر بھیجتی ہوں جو اکثر
ہمِیں سرحدوں میں ہیں اُلجھے ہوئے، پر
ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے
وہ باغِ اِرم کی مہک ساتھ لے کر
مدینے کی گلیوں میں پھیلے کی جس دم
یقیناً مِری حسرتیں، آرزوئیں
گِرہ باندھ کر بھیجتی ہوں جو اکثر
بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی
ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی
بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر
زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی
کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں
جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی
گردشِ وقت کی رفتار کے بعد
گرچہ الہام کا دروازہ نہیں وا ہوتا
کوئی زِیرک ہے جو سمجھا دے مجھے
کون سی شے ہے پسِ پردہ
مسلسل اب تک
جو میرے دل کو
یوں لگ رہا ہے میں بھی سمجھدار ہو گئی
صحرا میں آندھیوں کی طرفدار ہو گئی
دل کی زمیں نے معرکہ جھیلا نہ تھا کبھی
دھڑکن سحر سے پہلے عزادار ہو گئی
آواز دے کے روکنا چاہا اسے مگر
میں بد نصیب آج ہی خوددار ہو گئی
یقیں کی ریت پہ خالی سراب بنتی ہوں
جھلکتی آنکھ میں ان دیکھے خواب بنتی ہوں
مرے وجود کی ظلمت پہ بولنے والے
میں دیدہ تر سے کئی آفتاب بنتی ہوں
یہ دھوپ چاہ کی جھلسا نہ دے کہیں مجھ کو
تمہاری یاد سے اکثر سحاب بنتی ہوں
کوئی کاندھا نہیں میسر ہے
جس پہ پہروں میں سر ٹکا پاتی
آنکھ کے راستے بہا پاتی
وہ اذیت بھرے سبھی لمحے
جو میری جان تو نہیں لیتے
ہاں
مجھے روز مار دیتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مری نگاہ میں مکہ ہے اور مدینہ ہے
یہی متاعِ جہاں ہے مرا خزینہ ہے
وہ مہرباں ہو تو آفات سے نجات ملے
نبیؐ کا جود و کرم نوحؑ لا سفینہ ہے
قلم میں لکنتیں اوراق داغ داغ مرے
لبوں پہ اسم محمدﷺ کا اک نگینہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شقِ دیوارِ کعبہ ہے
قصیدہ اپنے مولاؑ کا
کہ ان کے نام سے
کوئی بھی خیبر ٹوٹ سکتا ہے
ولادت سے شہادت تک
سراپا زندگی ان کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کے نور نظر نور عین سے بیعت
صفین بھول کے بدر و حنین سے بیعت
رکی ہوں میں علیؑ مولا کے حرفِ اول پر
دمِ اخیر پہ کر لوں میں عین سے بیعت
سلگتے دشت میں بے چین تشنہ لب حُر نے
درِ حسینؑ پہ کر لی ہے چین سے بیعت
اس ہجر دردناک کا مطلب سمجھ گئی
میں دامنوں کے چاک کا، مطلب سمجھ گئی
جب سے میں کھول آئی تعلق کی بیڑیاں
خس کم جہان پاک کا مطلب سمجھ گئی
ذرہ ہوں آفتاب کی خواہش نہیں مجھے
یعنی میں مشتِ خاک کا مطلب سمجھ گئی