Showing posts with label شبینہ آرا. Show all posts
Showing posts with label شبینہ آرا. Show all posts

Saturday, 24 October 2026

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

 ہمِیں سرحدوں میں ہیں اُلجھے ہوئے، پر

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

وہ باغِ اِرم کی مہک ساتھ لے کر

مدینے کی گلیوں میں پھیلے کی جس دم

یقیناً مِری حسرتیں، آرزوئیں

گِرہ باندھ کر بھیجتی ہوں جو اکثر

Thursday, 12 February 2026

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

 بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی

بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر

زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی

کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں

جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی

Sunday, 4 January 2026

گردش وقت کی رفتار کے بعد

 گردشِ وقت کی رفتار کے بعد

گرچہ الہام کا دروازہ نہیں وا ہوتا

کوئی زِیرک ہے جو سمجھا دے مجھے

کون سی شے ہے پسِ پردہ

مسلسل اب تک

جو میرے دل کو

Tuesday, 16 September 2025

کیا کیجیے کہ موت وفادار ہو گئی

 یوں لگ رہا ہے میں بھی سمجھدار ہو گئی

صحرا میں آندھیوں کی طرفدار ہو گئی

دل کی زمیں نے معرکہ جھیلا نہ تھا کبھی

دھڑکن سحر سے پہلے عزادار ہو گئی

آواز دے کے روکنا چاہا اسے مگر

میں بد نصیب آج ہی خوددار ہو گئی

Wednesday, 10 September 2025

یقیں کی ریت پہ خالی سراب بنتی ہوں

 یقیں کی ریت پہ خالی سراب بنتی ہوں

جھلکتی آنکھ میں ان دیکھے خواب بنتی ہوں

مرے وجود کی ظلمت پہ بولنے والے

میں دیدہ تر سے کئی آفتاب بنتی ہوں

یہ دھوپ چاہ کی جھلسا نہ دے کہیں مجھ کو

تمہاری یاد سے اکثر سحاب بنتی ہوں

Thursday, 21 August 2025

کوئی کاندھا نہیں میسر ہے

 کوئی کاندھا نہیں میسر ہے

جس پہ پہروں میں سر ٹکا پاتی

آنکھ کے راستے بہا پاتی

وہ اذیت بھرے سبھی لمحے

جو میری جان تو نہیں لیتے

ہاں

مجھے روز مار دیتے ہیں

Wednesday, 16 July 2025

مری نگاہ میں مکہ ہے اور مدینہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مری نگاہ میں مکہ ہے اور مدینہ ہے

یہی متاعِ جہاں ہے مرا خزینہ ہے

وہ مہرباں ہو تو آفات سے نجات ملے

نبیؐ کا جود و کرم نوحؑ لا سفینہ ہے

قلم میں لکنتیں اوراق داغ داغ مرے

لبوں پہ اسم محمدﷺ کا اک نگینہ ہے

Tuesday, 8 July 2025

شق دیوارِ کعبہ ہے قصیدہ اپنے مولا کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شقِ دیوارِ کعبہ ہے

قصیدہ اپنے مولاؑ کا

کہ ان کے نام سے

کوئی بھی خیبر ٹوٹ سکتا ہے

ولادت سے شہادت تک

سراپا زندگی ان کی

Sunday, 6 July 2025

نبی کے نور نظر نور عین سے بیعت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیﷺ کے نور نظر نور عین سے بیعت

صفین بھول کے بدر و حنین سے بیعت

رکی ہوں میں علیؑ مولا کے حرفِ اول پر

دمِ اخیر پہ کر لوں میں عین سے بیعت

سلگتے دشت میں بے چین تشنہ لب حُر نے

درِ حسینؑ پہ کر لی ہے چین سے بیعت

Tuesday, 26 January 2021

اس ہجر دردناک کا مطلب سمجھ گئی

اس ہجر دردناک کا مطلب سمجھ گئی

میں دامنوں کے چاک کا، مطلب سمجھ گئی

جب سے میں کھول آئی تعلق کی بیڑیاں

خس کم جہان پاک کا مطلب سمجھ گئی

ذرہ ہوں آفتاب کی خواہش نہیں مجھے

یعنی میں مشتِ خاک کا مطلب سمجھ گئی